تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 207 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 207

ایک دن رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم جب بیدار ہوئے تو ٹمگین تھے اور آپ کے ہاتھ میں سرخ مٹی تھی جس کو حضور آلٹ پلٹ رہے تھے۔میں نے پوچھا حضور یہ مٹی میسی ہے؟ فرمایا جبرائیل نے مجھے خبر دی ہے کہ یہ (حضرت حسین ) عراق کی زمین میں قتل کیا جائے گا اور یہ اس کی مٹی ہے۔“ اب دیکھئے خواب کی بات تھی مگر وہ مٹی اور پھر خون سے سرخ مٹی حضور کے ہاتھ میں بیداری کے وقت بھی رہ گئی۔(۳) حضرت اسمعیل صاحب شہید دہلوی تحریر فرماتے ہیں :- حضرت ایشاں جناب رسالت مآب را صلوات الله وسلامه علیه در منام دیدند و آنجناب سته خرما بدست مبارک حضرت ایشان را خورانیدند - بوصفیکه یک یک خرما بدست مبارک خود گرفته در دهن حضرت ایشاں سے نہادند۔و بعد ازاں کہ بیدار شدند در نفس خود اثر ازاں رو یا حقہ ظاہر و باہر یافتند۔“ (صراط مستقیم صفحه ۱۷۵) کہ انہوں نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا۔آپ نے تین کھجور میں اپنے دست مبارک سے انہیں اس طرح کھلا ئیں کہ ایک ایک کھجور اپنے ہاتھ سے ان کے منہ میں ڈالتے تھے۔بعد ازاں وہ جاگ پڑے تو اس مبارک خواب کا اثر اُن کے نفس میں ظاہر تھا۔“ ظاہر ہے کہ یہ واقعات عام لوگوں سے پیش نہیں آتے بلکہ خارق عادت ہوتے ہیں۔اسی لئے حضرت مسیح موعود نے اس جگہ تحریر فرما دیا ہے کہ ایک غیر آدمی اس راز کو نہیں سمجھے گا اور شک کرے گا کیونکہ اسکو ایک خواب کا معاملہ محسوس ہوگا مگر جس کو روحانی امور کا علم ہو وہ اس میں شک نہیں کر سکتا۔اس طرح خدا نیست سے ہست کر سکتا ہے۔“ (عشرہ صفحہ ۵۱) گویا جس طرح ایک گنوار ہوائی جہاز اور وائرلیس کا انکار کرے گا اسی طرح کا یہ انکار ہوگا مگر ہر دو انکار شائستہ التفات نہیں۔اعتراض ششم - مرزا صاحب کے خدا کی بینائی کا فتور۔کہ پاس بیٹھے آدمیوں کو شرخی سے رنگ دیا۔“ (207)