تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 206 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 206

میں چاہے عاجز قسم کھانے کو تیار ہے۔نیز یہ عاجز مباہلہ کے لئے بھی حاضر ہے۔غرضیکہ وہ جس طرح بھی چاہے اطمینان کرلے۔“ (اخبار الفضل ۲۶ ستمبر ۱۹۱۲ء) پس یہ سیاہی کا خراب کرنا نہیں ، اسرف نہیں بلکہ عین مصلحت ہے۔ہاں اگر یہی اسراف ہے تو میں کہتا ہوں کہ اس اسراف پر ہزاروں کفایت شعاریاں شمار ہوں۔عالم کشف کی چیز کا خارج میں موجود ہو جانا ممکن ہے کہ مادہ پرست لوگ کہیں کہ یہ کیسے ہو گیا کہ کچھ بھی نہ تھا اور پھر سیاہی کے قطرے گئے۔سو انہیں یادر ہے کہ اسلام میں ایسے واقعات اولیاء اللہ سے ہوتے رہے ہیں چنانچہ ذیل میں چند واقعات درج ہیں :- (۱) عبداللہ بن الجلاء صوفی کا واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ وہ مدینہ میں بھٹو کے تھے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارک پر آئے اور کہا :- " يَا رَسُولَ اللهِ بِي فَاقَةٌ وَأَنَا ضَيْفُكَ “ کہ اے رسول خدا! میں آپ کا مہمان ہو کر بھوکا ہوں اور پھر ذرا ہٹ کر سو گئے۔خواب میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے آکر ایک روٹی انہیں دی۔وہ فرماتے ہیں کہ فَاكَلْتُ بَعْضَهُ وَانْتَبَهُتُ وَفِي يَدِئُ بَعْضُ الرَّغِيْفِ کہ میں نے اس روٹی کا کچھ حصہ کھایا کہ جاگ پڑا تو باقی حصہ روٹی کا میرے ہاتھ میں تھا۔گویا جو روٹی خواب میں ملی تھی وہ خارج میں بھی موجود تھی۔(ملاحظہ ہو منتخب الکلام فی تعبیر الاحلام مصنفہ ابن سیرین و رسالہ قشیریہ وتذكرة الاولیاء در ذکر عبد الله بن الجلاء) (۲) بیہقی اور ابو نعیم نے حضرت ام سلمہ سے روایت کی ہے کہ :- اِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اضْطَجَعَ ذَاتَ يَوْمٍ فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ خَاثِرُ وَفِي يَدِهِ تُرْبَةٌ حَمْرَاهُ يُقَلِّبُهَا قُلْتُ مَا هَذِهِ التُّرْبَةُ يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَخْبَرَنِي جِبْرَائِيلُ أَنَّ هَذَا يَعْنِي الْحُسَيْنَ يُقْتَلُ بِأَرْضِ الْعِرَاقِ وَهَذِهِ تُرْبَتُهَا (شرح سر الشہادتین صفحه ۸۳ و کنز العمال) (206)