تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 200 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 200

ایمان نہیں لاتا وہ سعادت سے محروم اور خذلان میں گرفتار ہے۔“ ( کشتی نوح صفحہ ۱۸) یعنی آپ کا دعوی رسالت اور ماموریت کا ہے الوہیت کا ہر گز دعوی نہیں۔سومھ۔فرعون کا ادعاء غیر کشفی حالت کا ہے اور حضرت مسیح موعود کا واقعہ تم خود تسلیم کرتے ہو کہ محض ایک کشف ہے جس کی تعبیر ہوتی ہے۔جیسا کہ حضرت یوسف کا کشف تھا کہ سورج، چاند اور ستارے مجھ کو سجدہ کر رہے ہیں۔اب کیا حضرت یوسف نے اس کشف میں خدائی کا دعویٰ کیا تھا۔پھر حضرت مسیح موعود نے اپنے کشف کی تعبیر بھی خود بیان فرما دی ہے جیسا کہ ہم مفضل لکھ چکے ہیں۔چهارم - فرعون نے اَنَا رَبُّكُمُ الا علی کے نتیجہ کے طور پر لوگوں کو دوسرے خدا کی عبادت سے منع کیا مگر حضرت اقدس اپنی جماعت کو فرماتے ہیں :- ”اے وے تمام لوگو! جو اپنے تئیں میری جماعت شمار کرتے ہو آسمان پر تم اُس وقت میری جماعت شمار کئے جاؤ گے جب سچ سچ تقویٰ کی راہوں پر قدم مارو گے۔سو اپنی پنجوقتہ نمازوں کو ایسے خوف اور حضور سے ادا کرو کہ گویا تم خدا تعالیٰ کو دیکھتے ہو۔اور اپنے روزوں کو خدا کیلئے صدق کے ساتھ پورے کرو۔ہر ایک جوز کوۃ کے لائق ہے وہ زکوۃ دے اور جس پر حج فرض ہو چکا ہے اور کوئی مانع نہیں وہ حج کرے۔نیکی کوسنوار کر ادا کرو اور بدی کو بیزار ہو کر ترک کرو۔“ (کشتی نوح صفحه ۱۴) پنجم - فرعون اپنے مقاصد میں ناکام رہا اور موسیٰ کی پیشگوئیوں کے مطابق غرق ہوا لیکن خدا کا جری حضرت مرزا غلام احمد اپنے تمام مخالف ومعاند دشمنوں کے سامنے بڑھا، اس کا مشن اکناف عالم میں پھیل گیا ، تاریکی کے فرزند اس کے نیست و نابود کرنے کے لئے کوشاں ہوئے مگر خدا کے کام کو کون روک سکتا ہے۔گندہ فطرت لوگوں نے اس مقدس کو گالیاں دیں ، اور اس کے ماننے والوں سے درندگی سے پیش آئے ، اور آج تک اسکو بڑے بڑے ناموں سے یاد کر کے ہمارے دلوں کو زخمی کر رہے ہیں مگر اس برگزیدہ کی کامیابی اور ترقی ایک اظہر من الشمس حقیقت ہے۔کیا اللہ تعالیٰ کی یہ عملی شہادت تمہاری نظر میں کھلا کھلا اور بین فرق نہیں؟ اے دنیا کے منصف مزاج انسانو! محمد عربی لے سورۃ یوسف رکوع ۱ : (200)