تفہیماتِ ربانیّہ — Page 192
ہے جیسا کہ کائناتِ عالم کو خالقیت کا مظہر کہا جاتا ہے۔حدیث شریف میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا إِنَّ اللهَ خَلَقَ آدم على صورته مسلم ابواب البز جلد ۲ صفحه ۳۹۷) کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔چونکہ ہر نبی خلیفة اللہ“ ( خدا کا نائب ) ہوتا ہے اس لئے اس کا ظہور خدا تعالیٰ کا ظہور ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس نبی کے ذریعہ سے اپنی صفات کی جلوہ گری فرماتا ہے۔چنانچہ سورۃ الجمعہ کے اوائل میں يُسَبِّحُ لِلهِ مَا فِي السَّمَوتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ طَ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ چار صفات ذکر فرما ئیں اور پھر هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِينَ الخِ آیات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور کارناموں کو ان صفات کے اثبات کے لئے بطور دلیل پیش فرمایا۔اسی نہج پر تورات میں اور انجیل میں استثناء ومتی وغیرہ میں ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کو اللہ تعالیٰ کی آمد قرار دیا گیا ہے۔درحقیقت نبی تاریکی کے زمانہ میں آتا ہے، جب دنیا اللہ تعالیٰ سے بیگانہ ہو جاتی ہے۔ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِ وَالْبَحْرِ (روم رکوع ۵) کا دور ہوتا ہے۔گو یا خدا اُس وقت دنیا سے غائب ہو جاتا ہے۔نبی ایک نور لاتا ہے اور خدا کی ذات سے دنیا کو واصل بنا تا ہے۔اسے دوسرے لفظوں میں خدا کا ظہور کہتے ہیں۔اسی کی طرف حضرت ابن عباس کی اس صحیح تفسیر میں اشارہ ہے كُنْتُ كَثْرَ أَمَخْفِيًّا فَأَحْبَبْتُ أَنْ أعْرَفَ فَخَلَقْتُ خَلْقًا ( موضوعات کبیر صفحه (۶۴) کہ میں ایک مخفی خزانہ تھا۔میں نے چاہا کہ شناخت کیا جاؤں سو میں نے مخلوق کو پیدا کیا۔پس ظُهُورُكَ ظُهُورِی والا الہام بھی چشم بصیرت کے لئے ہر گز قابل اعتراض نہیں۔متفرق الهامات اس نمبر کے بعد معترض پٹیالوی نے متفرق طور پر چند الہامات پیش کر کے بدترین تعصب کے ثبوت میں مزید اضافہ کیا ہے۔ہم نے چونکہ فیصلہ کر رکھا ہے کہ ہم معترض کی ہر ایک بات کا جواب دیں گے اسلئے ان تمام الہامات کے متعلق بھی مختصر جواب عرض ہیں۔پہلا الہام - سرگ سری یعنی اے مرزا ( علیہ السلام۔ناقل ) تیرا بھید میرا بھید ہے۔“ (عشرہ صفحہ ۴۸) نہ معلوم اس میں کیا اعتراض ہے؟ کیا خدا تعالیٰ کا تعلق ہر ایک بندے سے (192)