تفہیماتِ ربانیّہ — Page 193
علیحدہ علیحدہ نہیں اور کیا اللہ تعالیٰ انسان کے بھیدوں کو نہیں جانتا اور پھر ان کو دوسروں سے مخفی نہیں رکھتا ؟ معترض کو صرف اعتراض کرنے سے مطلب ہے لیجئے صاحب ایک دوسرے صاحب التبر “ بزرگ کی شہادت سُن لیجئے جو ہمارے اور آپ کے نزدیک مسلم ولی اللہ ہیں۔حضرت سید عبدالقادر جیلانی" تحریر فرماتے ہیں :- مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَأَنْبِيَاءِ وَأَوْلِيَامِهِ سِرِّ مِنْ حَيْثُ لَا يَطَّلِعُ عَلَى ذَالِكَ أَحَدٌ غَيْرُهُ حَتَّى إِنَّهُ قَدْ يَكُونُ لِلْمُرِيدِ سِرْ لَا يَطَّلِعُ عَلَيْهِ شَيْخُهُ الخ“ (فتوح الغیب مقاله ۱۷) ترجمہ اللہ تعالیٰ کا ہر رسول، نبی اور اپنے ولی کے ساتھ ایک بھید اور راز ہوتا ہے ایسا کہ دوسرے کسی کو اس پر اطلاع نہیں ہوتی۔یہاں تک کہ بعض دفعہ مرید کا اللہ تعالیٰ سے ایک بھید ہوتا ہے اور اس کے شیخ کو اس پر آگا ہی نہیں ہوتی۔“ اس جگہ ہم اپنے معترضین سے بادب عرض کریں گے کہ جب وہ اس الہی کو چہ سے آشنائی نہیں رکھتے تو اس میں خواہ مخواہ دخل دیگر ذلّت کیوں اُٹھا رہے ہیں؟ ان کے لئے کنز، قدوری کے مسائل استنجاء وغیرہ بحث کے لئے کافی ہیں عشق ربانی کا میدان کسی اور کا ہے۔پس بقول حسرت سے و حکمت کا جنہیں شوق ہو آئیں نہ ادھر کچھ نہیں فلسفہ عشق میں حیرت کے سوا دوسرا الهام ظهورك ظهوری پیش کیا ہے جس کا جواب اُو پر آچکا ہے۔لولاك لما خَلَقْتُ الْأَفَلَاكَ پر اعتراض کا جواب تیسرا الهام لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الْأَفَلَاكَ “اگر تُو نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا۔“ (عشرہ صفحہ ۴۹) پیش کیا ہے۔الجواب الاول - حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس الہام کی تشریح خود حقیقة الوحی صفحہ ۹۹ پر فرما دی ہے اور بتلا دیا ہے کہ اسجگہ ” آسمانوں سے کیا مراد ہے۔فرماتے ہیں :- لے اس سے ان مسائل کی تو ہین مقصود نہیں بلکہ نری ظاہریت کے لئے ایک تمثیل ہے * مؤلف (193)