تفہیماتِ ربانیّہ — Page 182
ابدی اور غیر متغیر ہے۔نہ وہ کسی کا بیٹا ، نہ اس کا کوئی بیٹا ، وہ دُکھ اُٹھانے اور صلیب پر چڑھنے اور مرنے سے پاک ہے۔وہ ایسا ہے کہ باوجود دُور ہونے کے وہ نزدیک ہے اور باوجود نزدیک ہونے کے دُور ہے۔“ (کشتی نوح صفحہ ۱۰) (ب) اے سُننے والوسنو ! ہمارا خدا وہ خدا ہے جو اب بھی زندہ ہے جیسا کہ پہلے زندہ تھا۔اور اب بھی وہ بولتا ہے جیسا کہ وہ پہلے بولتا تھا۔اور اب بھی وہ سنتا ہے جیسا کہ پہلے سنتا تھا۔یہ خیال خام ہے کہ اس زمانہ میں وہ سنتا تو ہے مگر بولتا نہیں۔بلکہ وہ سنتا ہے اور بولتا بھی ہے۔اس کی تمام صفات ازلی ابدی ہیں، کوئی صفت بھی معطل نہیں اور نہ کبھی ہوگی۔(الوصیت صفحہ ۱۰) (ج) پھر فرماتے ہیں ے وَحِيدُ فَرِيْدُ لَا شَرِيكَ لِذَاتِهِ قِوِيٌّ عَلِيٌّ مُسْتَعَانٌ مُقَدِّرُ وَلَمْ يَتَّخِذُ وَلَدًا وَلَا كُفُوَ لَهُ وَحِيْدٌ فَرِيْدُ مَا دَنَاهُ التَّكَثُرَ (کرامات الصادقین صفحه ۳۰) اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر کے فرمایا سے بادشاہی ہے تیری ارض و سما دونوں میں حکم چلتا ہے ہر اک ذرہ پہ ہر آں تیرا ( در تخمین اُردو ) حضرت اقدس کے یہ اقتباسات محتاج تشریح نہیں۔اب ہم پیش کردہ ہر ایک الہام پر علیحدہ علیحدہ وضاحت تحریر کرتے ہیں۔الہام اول کی حقیقت معترض نے خیال کیا ہے کہ " كُلٌّ لَكَ وَلا مُرك“ کے مخاطب حضرت مرزا صاحب ہیں تو گویا سب کچھ ان کے حکم کے ماتحت ہو گیا۔حالانکہ یہ سراسر غلط نہی یا مغالطہ دہی ہے۔یہ ایسی ہی بات ہے کہ کوئی نادان آیتِ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ کو جو اللہ تعالیٰ کا کلام ہے ان معنوں میں سمجھ لے کہ خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم تیری عبادت 182)