تفہیماتِ ربانیّہ — Page 181
کو باولا اردلی قرار دیا (العیاذ باللہ ) لیکن اسے اور اس کے فخر المحد ثین وغیرہ کو خدا تعالیٰ کے اس کلام کا علم نہیں جس میں اُس نے فرمایا ہے اَفَمَنْ هُوَ قَائِمٌ عَلَى كُلِّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ الأية (الرعد رکوع ۵) یا فرمایا ہے قائماً بِالْقِسْطِ (آل عمران رکوع ۲) یعنی فرما یا کہ اللہ ہی ہر نفس پر اس کے اعمال کے حساب کے لئے کھڑا ہے ، وہ عدل کو قائم کئے ہوئے ہے۔“ اب اِس جگہ اللہ تعالیٰ نے ججوں کی تردید میں اپنا قائم ہونا اور انسان کے ہر کام پر قائم ونگران ہونا بطور دلیل توحید پیش فرمایا ہے۔کیا مکذب اس آیت پر بھی تمسخر اڑائے گا ؟ اگر اس آیت میں کھڑا ہونے والا سے مراد نگران اور محافظ ہے تو پھر حضرت کے الہام میں کھڑا ہوگا“ سے ” نصرت و حفاظت کرے گا کیوں مراد نہ لئے جائیں؟ یا درکھو سے ہے سر راہ پر کھڑا نیکوں کے وہ مولے کریم نیک کو کچھ غم نہیں ہے گو بڑا گرداب ہے ( حضرت مسیح موعود ) (1) كُلٌّ لَكَ وَلاَ مُرِكَ وغيره اس نمبر میں معترض نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مندرجہ ذیل الہام لکھتے ہیں :- كُلٌّ لَكَ وَلاَمْرِكَ ( بدر ٢ / مارچ ٤١٩٠) أَرِيْدُ مَا تُرِيدُونَ - إِنَّمَا أَمْرُكَ ( إذا أردتَ شَيْئًا اَنْ تَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ - (حقیقة الوحی صفحه (۱۰۵) اور پھر بایں الفاظ اعتراض کیا ہے :- کیا خداوند کریم مرزا صاحب کی دانست میں ضعیف العمر ہو گئے ہیں جو سب کچھ مرزا صاحب کے حکم وارادہ کے ماتحت کر دیا ہے۔“ (عشرہ صفحہ ۴۸) الجواب - الہامات میں سے تو کسی کا بھی وہ مطلب نہیں جو معترض نے اپنی سو نہی سے سمجھا ہے۔یہ محض بہتان اور اتہام ہے۔حضرت مرزا صاحب کا اللہ تعالیٰ کے متعلق کیا اعتقاد تھا؟ پڑھ لیجئے فرماتے ہیں :- (الف) ایک قادر اور قیوم اور خالق الکل خدا ہے جو اپنی صفات میں ازلی 181