تفہیماتِ ربانیّہ — Page 13
باطل نہیں کرسکتا۔ارشادِ خداوندی ہے لا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنْزِيلٌ مِنْ حَكِيمٍ حَمِيدِ ( حم السجدة رکوع ۵) فلسفہ اپنے تمام اصولوں سمیت قرآنی حکمت کے بالمقابل پیچ محض ہے۔تاریخ اپنی سب روایات کے ساتھ بیانات قرآنی کے سامنے لاشئے ہے۔پس آؤ کہ ہم تاریخی روایات پر نظر ڈالنے سے پہلے رب السموات والارض کے فرمان کا صحیح مفہوم معین کرلیں۔اور وہ بھی اپنی رائے کے ماتحت نہیں کیونکہ من فشر القرآن برأيه فقد کفر کی وعید موجود ہے۔بلکہ القرآن يفسّر بعضه بعضا کے ماتحت آیت فرقانی کو حل کریں۔سب سے پہلے ہم کو اصولا یہ دیکھنا چاہتے کہ آیت متنازع فیہا کا کیا منشاء ہے۔اگر اس آیت سے ۲۳ سال والا معیار سچا ثابت ہو جاوے تو معترض کا اعتراض احمدیت یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نہ ہوگا بلکہ قرآن مجید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوگا۔اور اگر یہ معیار ہی ثابت نہ ہو تو اعتراض بجا ہے۔اللہ تعالیٰ سورۃ الحاقۃ رکوع ۲ میں فرماتا ہے :- وَلَوْ تَقَوْلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيْلِه لَاخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ هِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَجِزِينَ ) ترجمہ: اگر یہ مدعی بعض باتیں جھوٹے طور پر ہماری طرف منسوب کرتا۔تو ہم اس کو داہنے ہاتھ سے پکڑ لیتے اور اس کی شاہ رگ کاٹ دیتے۔اور پھر تم میں سے کوئی اس کو بچا نہ سکتا۔اس آیت میں کفار و منکرین کے سامنے ایک نہایت زبر دست اور مسکت معیار پیش کیا گیا ہے۔فرمایا کہ اگر یہ مدعی سچا نہ ہوتا بلکہ مفتری ہوتا جیسا کہ تمہارا دعویٰ ہے تو ہم اس کو پکڑ لیتے اور قتل کروادیتے۔یعنی یہ اتنی مہلت نہ پا سکتا۔اس کا اتنی مہلت پانا اور قتل سے بیچ رہنا اس بات کی زبردست دلیل ہے کہ یہ جھوٹا نہیں۔مفسرین کے دسن حوالے اس آیت کی تفسیر میں علامہ فخر الدین رازی لکھتے ہیں :- هذَا ذِكْرُهُ عَلَى سَبِيْلِ التَّمْثِيْلِ بِمَا يَفْعَلُهُ الْمُلُوكُ بِمَنْ لے اس میں ان لوگوں کا بھی رد ہو جاتا ہے جو کہا کرتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب کو انگریزوں نے بچایا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے غلط ہے۔اگر یہ مفتری ہوتا تو انگریز تو کیا ساری دنیا مل کر بھی اس کو بچانہ سکتی۔منہ 13