تفہیماتِ ربانیّہ — Page 136
(۵) آرَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالذِيْنِ فَذَلِكَ الَّذِي يَدُ الْيَتِيم یہ کون تھا نام درج نہیں۔(1) إِنَّا أَنزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ کس رات کو لیلتہ القدر کہتے ہیں؟ تاریخ مذکور نہیں۔(۷) سَأَلَ سَائِلُ بِعَذَابِ وَاقع۔سائل کون تھا ؟ مذکور نہیں۔(۸) الَّذِي يَشْتَرِي لَهْوَ الحَدِيث۔کون شخص تھا؟ نام بیان نہیں ہوا۔(1) وَالْفَجْرِ وَلَيَالٍ عَشْرِ وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ۔کونسا جفت وطاق اور کونسی فجر و دس راتیں مراد ہیں؟ مشخص نہیں! (١٠) إِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ۔ایک پہلو عین نہیں کیا گیا۔اب سوال یہ ہے کہ کیا ان آیات پر جو بطور مثال لکھی گئی ہیں معترض پٹیالوی کا اعتراض انہیں لفظوں میں وارد نہیں ہوتا جس میں اس نے حضرت مسیح موعود کے الہامات پر کیا ہے؟ لیکن در حقیقت جس طرح قرآن مجید کی یہ آیات کسی قسم کی زد کے نیچے نہیں آتیں اسی طرح حضرت مسیح موعود کے الہامات بھی اعتراضات سے پاک ہیں۔قرآن مجید کی آیات متشابہات ( یا بالفاظ معترض پٹیالوی ”گول مول“ کیونکہ ان کے کئی معنی ہو سکتے ہیں) پر اعتراض کرنا نادانوں کا شیوہ ہے اسی طرح حضرت کے بعض متشابہ الہامات کو گول مول کہہ کر تحقیر کرنا بھی یقینا نا پاک دل لوگوں کا کام ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ کے کلام میں جہاں کہیں الہام ہوتا ہے وہ کسی مفید غرض کے لئے ہو ا کرتا ہے۔في بِضْح سنتين “ والی آیت کے متعلق لکھا ہے :- "وَإِنَّمَا أَبْهَمَ الْبِضْعَ وَلَمْ يُبَيِّنُهُ وَإِنْ كَانَ مَعْلُوْمًا لِنَبِيَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِإِدْخَالِ الرُّعْبِ وَالْخَوْفِ عَلَيْهِمْ فِي كُلِّ وَقْتٍ كَمَا يُؤْخَذُ ذَالِكَ مِنْ تَفْسِيرِ الْفَخْرِ الزَّازِی۔( فتح البیان جلد 2 صفحہ ۱۷۹) کہ اللہ تعالیٰ نے بضع کے لفظ کو مہم رکھا ہے اور کھول کر نہیں بتایا کہ کتنے عرصہ میں رومی غالب آئیں گے (اگر چہ یہ رسول کریم کو معلوم تھا ) تا کہ ان لوگوں پر ہر وقت رُعب و خوف طاری رہے جیسا کہ فخر الدین رازی نے بھی اپنی تفسیر میں لکھا ہے۔“ آیات متشابہ کا فائدہ انہی متشابہ آیات میں سے سورۃ المدثر کی یہ آیت بھی ہے 136