تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 137 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 137

کہ ہم نے دوزخ پر ۱۹ فرشتے مقرر کئے ہیں۔۱۹ کی وجہ بایں الفاظ بیان فرمائی :- وَمَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ إِلَّا فِتْنَةٌ لِلذِينَ كَفَرُوْا لِيَسْتَيْقِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ وَيَزْدَادَ الَّذِينَ آمَنُوا إِيمَانًا وَلَا يَرْتَابَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ وَالْمُؤْمِنُونَ : وَلِيَقُوْلَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ وَالْكَفِرُونَ مَا ذَا أَرَادَ اللهُ بِهَذَا مَقَلًا، كَذلِكَ يُضِلُّ اللهُ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ (المدثر ركوع ١) ” ہم نے فرشتوں کی یہ تعداد (۱۹) کافروں کی آزمائش کے لئے بنائی ہے تا کہ اہل کتاب کو یقین ہو جاوے اور مومنوں کے ایمان میں زیادتی ہو۔لیکن کافر اور منافق اس تعداد کو دیکھ کر کہہ اُٹھیں گے کہ خدا نے اس قسم کی باتوں (بالفاظ منشی محمد یعقوب گول مول باتوں) سے کیا ارادہ کیا ہے۔فرمایا خدا اسی طرح بعض کو گمراہ ٹھہراتا ہے جو چاہتے ہیں اور جن کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔“ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ آیات متشابہات منافقین اور کفار کی آزمائش کے لئے ہوتی ہیں اور وہ اس مقام پر فیل ہو جاتے ہیں۔دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے آمَا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ (آل عمران رکوع (۱) که سنج دل انسان متشابہات کا چرچا کر کے فتنہ برپا کرنا چاہتے ہیں۔خیبھم اللہ تعالی۔اس حقیقت ثابتہ پر غور کر کے معترض پٹیالوی معلوم کر سکتا ہے کہ اُس نے بعض الہامات کو گول مول قرار دے کر کونسا تیر مارا ہے؟ صرف اپنی سیج انداز فطرت کا ثبوت دیا ہے جو قدیم سے انبیاء کے مخالف دیتے رہے ہیں۔ایک عجیب حقیقت اور لطیفہ مسلم فریقین ہے کہ قرآن مجید میں محکمات بھی ہیں اور متشابہات بھی۔خود قرآن مجید فرماتا ہے :- هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَبَ مِنْهُ آيَتٌ مُحْكَمَتْ (137)