تفہیماتِ ربانیّہ — Page 126
عبارت کو حذف کر دیا جاتا ہے۔کیا یہی خشیت خدا کا تقاضا ہے؟ بحث کرنا تم سے کیا حاصل اگر تم میں نہیں روح انصاف و خدا ترسی کہ ہے دیں کا مدار سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مولوی ثناء اللہ صاحب کو لکھا :- اگر آپ لوگوں کی صدق دل سے یہ نیت ہو کہ اپنے شکوک و شبہات پیشگوئیوں کی نسبت یا ان کے ساتھ اور امور کی نسبت بھی جو دعویٰ سے تعلق رکھتے ہوں رفع کر دیں تو یہ آپ لوگوں کی خوش قسمتی ہوگی۔اور اگر چہ میں کئی سال ہو گئے کہ اپنی کتاب انجام آتھم میں شائع کر چکا ہوں کہ میں اس گروہ مخالف سے ہرگز مباحثات نہیں کروں گا کیونکہ اس کا نتیجہ بجز گندی گالیوں اور او باشانہ کلمات سننے کے اور کچھ ظاہر نہیں ہوا۔مگر میں ہمیشہ طالب حق کے شبہات دور کرنے کے لئے تیار ہوں۔اگر چہ آپ نے اس رقعہ میں دعوی کر دیا ہے کہ میں طالب حق ہوں مگر مجھے تامل ہے کہ اس دعوی پر آپ قائم رہ سکیں۔چونکہ آپ لوگوں کی عادت ہے کہ ہر ایک بات کو کشاں کشاں بے ہودہ اور لغو مباحثات کی طرف لے آتے ہیں اور میں خدا تعالیٰ کے سامنے وعدہ کر چکا ہوں کہ ان لوگوں سے مباحثات ہرگز نہیں کروں گا۔سودہ طریق جو مباحثات سے بہت دُور ہے وہ یہ ہے کہ آپ اس مرحلہ کو صاف کرنے کے لئے اول یہ اقرار کریں کہ آپ منہاج نبوت سے باہر نہیں جائیں گے۔الخ وو الہامات مرز ا مصنفہ مولوی ثناء اللہ امرتسری صفحہ ۱۱۷) نہایت واضح بیان ہے مگر چونکہ مولوی ثناء اللہ صاحب کے زعم میں قادیان پہنچ جانا ہی کافی تھا اور اس کے خیال میں پیشگوئی کو جاہلوں کی نظر میں باطل بتلانے کے لئے یہی کافی تھا اس لئے نیز اپنی بزدلی و کمزوری کے باعث اس نے ہر طرح سے اِس پیالہ کو ٹالا اور کسی طرح بھی پیشگوئیوں کی پڑتال کے لئے رضامند نہ ہوا اور خدا کا کلام کہ وہ پیشگوئیوں کی پڑتال کے لئے قادیان نہ آئے گا پوری آب و تاب سے پورا ہوا۔حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کو یہاں تک لکھا کہ :- ” اب آپ اگر شرافت اور ایمان رکھتے ہیں قادیان سے بغیر تصفیہ کے خالی نہ 126)