تفہیماتِ ربانیّہ — Page 120
پڑھا اور انہیں بتایا گیا کہ قادیان کی چھوٹی سی بستی کے ایک کسمپرس انسان نے (خدا کے اس پر ہزاروں ہزار درود و سلام ہوں ) کئی سال قبل فرمایا تھا بع زار بھی ہوگا تو ہو گا اُس گھڑی با حال زار تب وہ وقت آ گیا کہ ہزاروں اندھے سو جا کھے ہو گئے ، ہزاروں بہروں نے سُننا شروع کیا بے شمار گونگے قوت گویائی سے بہرہ ور ہو گئے ، اور ہزاروں مردوں کو ابدی زندگی بخشی گئی۔فطوبى لمن أمن وويل لمن كفر - بالآخر ہم حضرت اقدس کے وہ اشعار درج کرتے ہیں جن میں آپ نے نہایت زبردست طور پر جنگ یورپ کا نقشہ کھینچا ہے۔حضور نے فرمایا راک نشاں ہے آنے والا آج سے کچھ دن کے بعد جس سے گردش کھائیں گے دیہات و شہر و مرغزار آئے گا قہر خدا سے خلق پر اک انقلاب اک برہنہ سے نہ یہ ہوگا کہ تا باندھے ازار یک بیک اک زلزلہ سے سخت جنبش کھائیں گے کیا بشر اور کیا تجر اور کیا حجر اور کیا بحار اک جھپک میں یہ زمیں ہو جائے گی زیر و زبر نالیاں خوں کی چلیں گی جیسے آپ رودبار رات جو رکھتے تھے پوشاکیں برنگ یاسمن صبح کردے گی انہیں مثلِ درختان چنار ہوش اُڑ جائیں گے انساں کے پرندوں کے حواس بھولیں گے نغموں کو اپنے سب کبوتر اور ہزار ہر مسافر پر وہ ساعت سخت اور وہ ہ گھڑی ہے راہ کو بھولیں گے ہوکر مست و بیخود راه وار خون سے مردوں کے کوہستان کے آب رواں سُرخ ہو جائیں گے جیسے ہو شراب انجبار پر وہ 120)