تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 116 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 116

نہایت واضح بات ہے کہ جس زلزلہ کو حضور نے اپنی زندگی میں ضروری بتایا تھاوہ در حقیقت موسم بہار والا زلزلہ تھا جو حضور کی زندگی میں آ گیا۔فَانْدَ فَعَ الْإِشْكَالُ۔نبی اجتہادی غلطی کر سکتا ہے ہم نے پیشگوئیوں کے متعلق چند ضروری اصول فصل دہم کے آغاز میں ذکر کئے ہیں۔اس جگہ صرف اتنا یا درکھنا چاہئے کہ بعض دفعہ پیشگوئی کے وقت یا مقام کی تعیین میں ( جبکہ تعیین الہام کے الفاظ میں موجود نہ ہو ) غلطی ممکن ہے۔انبیاء کے سرتاج صلی اللہ علیہ وسلم ایک رؤیا کی بناء پر قریبا ڈیڑھ ہزار صحابہ کو لیکر حج بیت اللہ کے لئے نکل کھڑے ہوئے مگر واقعات نے بتایا کہ وقت کے سمجھنے میں غلطی ہوئی۔وہ رویا اس سال کے لئے نہ تھی مفصل دیکھو صحیح البخاری باب صلح الحديبية ) ایسا ہی ایک حدیث میں آیا ہے رسول مقبول نے فرمایا :- رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَهَاجِرُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى أَرْضٍ بِهَا نَخْلُ فَذَهَبَ وَهْلِي إِلَى أَنَّهَا الْيَمَامَةُ أَوْ هَجْرُ فَإِذَا هِيَ الْمَدِينَةُ يَثْرِبُ (بخاری باب هجرة النبي واصحابه الى المدينة) کہ میں نے رویا میں اپنی ہجرت گاہ کھجوروں والی زمین دیکھی۔میرا خیال تھا کہ میں یمامہ یا ہجر شہر کی طرف ہجرت کروں گا مگر وہ ہجرت گاہ مدینہ ثابت ہوئی۔“ ناظرین کرام ! ہر دو واقعات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہیں جن کا انکار ناممکن ہے۔ان سے ظاہر ہے کہ وقت اور مقام کی تعیین میں خطا واقع ہوئی مگر اس غلطی کا الہام ذمہ وار نہیں بلکہ محض اجتہادی غلطی ہے جسے اہلسنت والجماعت بھی تسلیم کرتے ہیں۔چنانچہ لکھا ہے :- إِنَّ النَّبِيَّ صَلعَم قَدْ يَجْتَهِدُ فَيَكُونُ خَطَأَ كَمَا ذَكَرَهُ الْأَصُولِيُونَ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشَاوِرُ الصَّحَابَةَ فِيْمَا لَمْ يُؤْحَ إِلَيْهِ وَهُمْ يُرَاجِعُونَهُ فِي ذَالِكَ۔۔۔وَفِي الْحَدِيثِ مَا حَدَّثْتُكُمْ عَنِ اللهِ سُبْحَانَهُ فَهُوَ حَقٌّ وَمَا قُلْتُ فِيْهِ مِنْ قِبَل نَفْسِى فَإِنَّمَا أَنَا (116)