تفہیماتِ ربانیّہ — Page 101
ہزار ششم کے تعین میں اختلاف ہے اور ایک لحاظ سے حضرت نے اپنی پیدائش کو گویا ۵۹۸۹ سال پر قرار دیا ہے لیکن حضور کی دوسری تحریریں بتا رہی ہیں کہ اس میں گیارہ سال کا فرق ہے۔اور حقیقت میں سنِ پیدائش حضور کا ۱۲۵۰ ہجری ہی ہے اور اس لحاظ سے بھی حضور کی عمر ۷۶ سال ہی بنتی ہے جو الہام کے بالکل مطابق ہے۔ان دونوں حوالوں کا جواب دینے کے بعد اب ہم ذیل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دو شہادتیں اپنی عمر کے متعلق درج کرتے ہیں :- پہلی شہادت } تحریر فرماتے ہیں :۔” میری طرف سے ۲۳ اگست ۱۹۰۳ کو ڈوئی کے مقابل پر انگریزی میں یہ اشتہار شائع ہوا تھا جس میں یہ فقرہ ہے کہ میں عمر میں ستر برس کے قریب ہوں اور ڈوئی جیسا کہ وہ بیان کرتا ہے پچاس برس کا جوان ہے۔“ (حاشیہ تمہ حقیقۃ الوحی صفحہ اے ) گویا ۲۳ / اگست ۱۹۰۳ ء کو ستر برس ہوئے تو بوقت وفات ۲۶ رمئی ۱۹۰۸ ء کو اس شمسی حساب سے بھی انداز ۷۵ سال عمر ہوئی اور قمری حساب سے تو دو سال اور بھی زیادہ ہو جا ئیں گے۔دوسری شہادت } تحریرفرمایا :- مجھے دکھلاؤ کہ آتھم کہاں ہے۔اس کی عمر تو میری عمر کے برابر تھی یعنی قریب ۶۴ سال کے۔“ (اعجاز احمدی صفحہ ۳) حضور نے اپنی عمر اور آتھم کی عمر برابر قرار دی ہے اور آتھم کی عمر ۶۴ سال بتائی ہے۔گویا جب آتھم مرا تو آپ کی عمر بھی ۶۴ سال تھی۔آتھم کی موت ۲۷ جولائی ۱۸۹۶ء کو مقام فیروز پور ہوئی ( انجام آتھم صفحہ ۱) نتیجہ یہ نکلا کہ ۱۸۹۶ء میں حضرت مرزا صاحب کی عمر ۶۴ سال تھی اب بارہ سال ملانے سے ۱۹۰۸ء میں یقیناً ۶ ۷ سال کی عمر ثابت ہوئی۔فھو المراد - حضرت مسیح موعود کی عمر کے متعلق مخالفین کی چند گواہیاں (۱) مولوی ثناء اللہ 101۔