تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 84 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 84

کیا جائے گا ؟ تدبر ! پھر رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی کو فرماتے ہیں :- أَنْتَ مِني وَأَنَا مِنْكَ “ (مشکوۃ باب المناقب صفحه ۵۶۴) کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اے علی ! تو میرا بیٹا اور میں تیرا بیٹا ہوں؟ ہرگز نہیں۔پھر آپ نے اشعری قبیلہ والوں کے متعلق فرمایا۔” هُم مِنی و آنا منهم ( بخاری جلد ۳ صفحه ۵۰ قصه عمان والبحرین ) کیا منشی محمد یعقوب اور ان کے فخر المحدثین کے نزدیک اس کا یہ ترجمہ درست ہے کہ میں اشعری قبیلہ کے لوگوں کا باپ ہوں اور وہ میرے باپ ہیں؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر الہام "آنا مِنگ“ کے یہ معنی کہ تو میرا باپ ہے لینے کیونکر درست ہو سکتے ہیں؟ مشکوۃ کتاب المناقب میں حضرت عباس حضرت حسین اور بعض دیگر صحابہ کے متعلق بھی یہ لفظ آئے ہیں۔مثلاً العباس منی و آنَا مِنه - حسین مِنی وآنَا مِنهُ۔جس کی غرض صرف اظہارِ قرب و محبت ہے۔پھر حضور علیہ السلام نے حلم ، حسن خلق اور پرہیز گاری کے متعلق فرمایا ثَلَاثُ مَنْ لَمْ تَكُنْ فِيْهِ فَلَيْسَ مِنِّى وَلَا مِنَ اللَّهِ۔“ ( معجم صغیر طبرانی) جس شخص میں یہ تینوں باتیں نہ ہوں وہ نہ مجھ سے ہے نہ اللہ سے۔تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص میں یہ صفات نہ ہوں وہ تو میرا اور خدا کا بیٹا نہیں۔باقی سب لوگ جو متصف بصفاتِ ثلاثہ ہوں وہ میرے اور خدا کے بیٹے ہیں ؟ نہیں اور ہر گز نہیں۔پھر حضور نے فیج اعوج کے لوگوں کے متعلق فرمایا - لَيْسُوا مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُمُ (مشکوہ کتاب الفتن ) تو کیا اس کا یہ مطلب ہوگا کہ فیج اعوج میں سادات کی نسل مٹ جائینگی یا آنحضرت کے محض روحانی تعلق کی نفی ہے؟ عربی زبان کا ایک بڑا شاعرعمرو بن شاش اپنی بیوی کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے سے فَإِنْ كُنْتِ مِنِّي أَو تُرِيدِينَ صُحْبَتِي فَكُونِي لَهُ كَالسَّمْنِ رُبَّتَ لَهُ الْآدَمُ (حماسه مجتبائی صفحہ ۷۷) اگر تُو مجھ سے ہے اور میرے ساتھ رہنا چاہتی ہے تو میرے پہلے بیٹے کے ساتھ پوری مطابقت رکھ۔کیا شاعر کا مطلب یہ ہے کہ اگر تو میری بیٹی ہے؟ ہر گز نہیں۔ایسے ہی بیسیوں حوالجات موجود ہیں جن سے ظاہر ہے کہ هُوَ مِنْهُ يا أَنَا مِنْكَ وغيره 84