تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 800 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 800

آخری گزارش معزز اور پیارے بھائیو! میری آخری گزارش آپ سہیہ ہے کہ آپ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام کی تعلیم کو دیکھیں، ان کی جماعت کی پاکیزگی ، خدمات دینیہ اور ایثار کو ملاحظہ فرمائیں اور پھر اللہ تعالیٰ کی اس متواتر نصرت کو دیکھیں جو اس جماعت کے شامل حال ہے تو آپ کو یقین کرنا پڑے گا کہ بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی پشت پر خدا تعالیٰ کی ذات تھی۔اسی کا ہاتھ ہر قدم پر ان کی اور ان کی جماعت کی دستگیری کرتا رہا ہے جیسا کہ وہ ہمیشہ سے راستبازوں کا حامی وناصر ہے۔پیارے بھائیو! زندگی نا پائیدار ہے، زیست پانی کے بلبلہ کی مانند ہے۔پیشتر اس کے کہ قیامت کے دن آپ کو کہنا پڑے ما لنا لا ترى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْأَشْرَارِ (ص) رکوع ۴) کہ ہم آج دوزخ میں اپنے ساتھ ان لوگوں کو کیوں نہیں دیکھتے جنہیں ہم شریر سمجھا کرتے تھے۔اور پھر آپ کو کہا جائے ا كَذَبْتُمْ بِايْتِي وَلَمْ تُحِيطُوا بِهَا عِلْمًا ( النمل رکوع ۷ ) کہ یہ تم نے کیا طریق اختیار کر رکھا تھا کہ بغیر کامل تحقیق اور احاطہ علمی تم میرے نشانات اور احکام کی تکذیب کرتے تھے؟ بھائیو! اس دن سے ڈر جاؤ جو نو جوانوں کو بوڑھا کر دے گا۔یاد رکھیں صادقوں کی مخالفت ایک زہر ہے اس کو کھانے والی قوموں نے پہلے کیا فائدہ اٹھایا جو آپ اُٹھا ئیں گے؟ آئیے آخر میں پیارے آقا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاکیزہ الفاظ پر تفہیمات ربانیہ کو ختم کرتا ہوں حضرت اقدس تحریر فرماتے ہیں : ”پیارو ! یقیناً سمجھو کہ خدا ہے اور وہ اپنے دین کو فراموش نہیں کرتا بلکہ تاریکی کے زمانہ میں اس کی مدد فرماتا ہے مصلحت عام کے لئے ایک کو خاص کر لیتا ہے اور اس پر علوم لدنیہ کے انوار نازل کرتا ہے۔سواسی نے مجھے جگایا اور سچائی کیلئے میرا دل کھول دیا۔میری روزانہ زندگی کا آرام اسی میں ہے کہ میں اسی کام میں لگار ہوں بلکہ میں اس کے بغیر جی ہی نہیں سکتا کہ میں اس کا اور اس کے رسول کا اور اس کی کلام کا جلال ظاہر کروں۔مجھے کسی کی تکفیر کا اندیشہ نہیں اور نہ کچھ پرواہ۔میرے لئے یہ بس ہے کہ وہ راضی ہو جس نے مجھے بھیجا ہے۔ہاں میں اس میں لذت دیکھتا ہوں کہ جو کچھ اس نے مجھ پر ظاہر کیا ہے وہ میں سب لوگوں پر ظاہر کروں۔اور یہ میرا فرض بھی ہے کہ جو کچھ مجھے دیا گیا وہ دوسروں کو بھی دوں اور دعوت مولی میں ان سب کو شریک کرلوں جو ازل سے بلائے گئے ہیں۔“ (ازالہ اوہام طبع پنجم صفحہ ۳۱۶) میرے دوستو اور بھائیو! اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو ، آپ کو قبول حق کی توفیق عطا فرمائے اور اپنی رضا کی راہوں پر چلنے کی توفیق بخشے۔آمین۔ے مراد ما نصیحت بود گفتیم و حوالت با خدا کردیم و رفتیم ر بنا تقبل منا انك انت السميع العليم - وأخر رغوينا ان الحمد لله رب العالمين رشعبان المعظم ۱۳۸۴ هجری ۱۲۔۱۲۔۶۴ خاکسار ناچیز ابوالعطاء جالندہری ضروری اعلان تصمیمات ربانیہ سلسلہ احمدیہ کی امانت ہے۔بیشک یہ میری تصنیف ہے مگر میں خود سلسلہ کا ادنیٰ خادم ہوں۔تفہیمات ربانیہ کو کوئی جماعت کوئی فرد بلکہ میری اولاد بھی خلیفہ وقت کے مقرر کردہ نظام کی اجازت سے طبع کر سکتی ہے۔واللہ الموفق (مصنف) (800