تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 801 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 801

تفہیمات ربانی کے متعلق علماء اور بزرگوں کی دن آراء ه کتاب تفہیمات ربانیہ کے متعلق سید نا حضرت امیر المومنین خلیفه لمسیح الثانی اید والد تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ارشاد آپ نے کتاب کے شروع میں ملاحظہ فرمالیا ہے۔ذیل میں اس کتاب کے متعلق بزرگان جماعت اور تجربہ کارو کامیاب علمائے سلسلہ کی صرف دن گرانقدر آراء درج کی جاتی ہیں جن سے اس کتاب کی افادیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے : (۱) محترم حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ایم اے نے تحریر فرمایا ہے :- میرے محترم جناب ابوالعطاء صاحب کی تصنیف لطیف ”تفہیمات ربانیہ پہلی بار دسمبر ۱۹۳۵ء میں بک ڈپو تالیف و اشاعت قادیان کی طرف سے شائع ہوئی تھی خود حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس کا نام ”تفہیمات ربانیہ" رکھا تھا۔اس کتاب میں خدا تعالیٰ کے عطاء کردہ فہم سے مخالفین کے اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے۔ایسی کتب جماعت کے نوجوانوں اور نو مبائعین کے لئے بہت ضروری اور مفید ہیں۔اب اس کا نیا ایڈیشن شائع ہو رہا ہے۔اس کی افادیت ظاہر ہے، دوستوں کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور اس کی اشاعت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے۔“ (۲) محترم جناب مولانا جلال الدین صاحب شمس ناظر اصلاح وارشاد، سابق مبلغ بلاد عر بید و انگلستان تحریر فرماتے ہیں کہ : تفہیمات ربانیہ مخالفین کے اعتراضات کے جوابات دینے کیلئے ایک نہایت مفید کتاب ہے جو مولانا ابوالعطاء صاحب نے ۱۹۳۰ء میں تالیف فرمائی تھی ، اور اب دوبارہ مفید اضافہ جات کے ساتھ شائع کی جارہی ہے۔دوستوں کو چاہئے کہ وہ اس کتاب کا نہ صرف خود مطالعہ کریں بلکہ غیر از جماعت دوستوں کو بھی پڑھنے کے لئے (۳) محترم جناب شیخ مبارک احمد صاحب نائب ناظر اصلاح دار شادہ، سابق رئیس التبلیغ مشرقی افریقہ نے (801)