تفہیماتِ ربانیّہ — Page 799
اس کے دین کی تجدید کیا کرے گا۔آنحضرت نے مجدد کیلئے صدی کا سر مقرر فرمایا ہے اور اس چودہویں صدی کے سر پر بحیثیت مجد دا گر کوئی مدعی نظر آتا ہے تو وہ صرف حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام ہیں۔(1) صحیح بخاری میں ہے لَوْ كَانَ الْإِيمَانُ بِالقُرَيَّا لَنَالَهُ رَجُلٌ مِنْ هؤلاء ( كتاب التفسیر سوره جمعه ) که اگر ایمان آسمان پر بھی جا چکا ہو گا تو ایک فارسی الاصل مرد اسے واپس لے آئے گا۔من هؤلاء کا لفظ حضرت رسول مقبول نے سلمان الفارسی کے کندھے پر ہاتھ رکھکر فرمایا تھا۔حضرت مسیح موعود کا فارسی الاصل ہونا مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو بھی مسلم تھا۔(اشاعۃ السنہ جلد ے صفحہ ۱۹۳) (۷) آنے والے مسیح موعود کا حلیہ بخاری شریف میں پہلے مسیح سے مختلف درج ہے۔( بخاری جلد ۴ صفحه ۱۴۶ کتاب الرؤیا) پہلے مسیح کا رنگ سرخ اور بال گھنگریالے اور مسیح موعود کا رنگ گندمی اور سیدھے بال مذکور ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہی حلیہ تھا۔فرمایا رنگم چون گندم است و هم فرق بین است * زاں سال که آمد است در اخبار سرورم (۸) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا يَخْرُجُ الْمَهْدِئُ مِنْ قَرْيَةٍ يُقَالُ لَهَا كَدْعَةَ - (جواہر الاسرار للشیخ علی حمزه الطوسی ۸۳۰ ) کہ مہدی اس گاؤں میں پیدا ہوگا جسے کدعہ کہا جائے گا۔“ گویا پیشگوئی میں نمایاں طور پر امام مہدی کے مقام ظہور یعنی قادیان کی نشاندہی کر دی گئی۔(۹) مسیح موعود کی علامت تھی يَتَزَ و مج ويُولَدُ لَهُ (مشکوه صفحه ۴۸۰ باب نزول عیسی ) کہ وہ شادی کرے گا اور اللہ تعالیٰ اسے اعلیٰ صفات والی اولا د عطا فرمائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبشر اولاد دے کر اللہ تعالیٰ نے آپ کی صداقت ثابت فرما دی جو ایک عظیم نشان ہے۔(۱۰) امام مہدی کا احادیث میں یہ خاص نشان مقرر تھا کہ اس کے وقت میں ، رمضان میں ، چاند کو گرہن کی راتوں میں سے پہلی رات میں، اور سورج کو گرہن کے دنوں میں سے درمیانی دن میں، گرہن لگے گا۔فرمایا انَ لِمَهْدِينَا ايَتَيْنِ لَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ يَنْكَسِفُ الْقَمَرُ لاول لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ وَتَنْكَسِفُ الشَّمْسُ فِي النَّصْفِ مِنْهُ (الدار قطنی صفحه ۱۸۸) یہ نشان را ۳ ہجری مطابق ۱۸۹۴ ء میں ہو چکا۔پہلے سال کرۂ مشرقی میں یہ نشان ظاہر ہوا اور دوسرے سال کر ہ مغربی میں۔تاسب انسانوں پر حجت تمام ہو جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں سے آسمان بار دنشاں الوقت میگوید زمیں : این دو شاہد از پئے تصدیق من استاده اند (799)