تفہیماتِ ربانیّہ — Page 793
مبحث صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام قرآنی معیاروں کے رُو سے نبی اور مامور کی شناخت کے لئے اُس کے حالات زندگی کو ہم تین حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں (۱) دعوئی سے پہلے کی زندگی (۲) دعوی کے بعد کی زندگی (۳) بعد وفات اس کی جماعت کی حالت۔جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے ان تینوں حصوں پر نگاہ کرتے ہیں تو ہم قرآن مجید کے ہر اس معیار کو جو بچوں کی علامت ہے آپ پر منطبق پاتے ہیں اور ہر اس نشانی سے جو جھوٹوں کی شناخت کا معیار ہے آپ کو پاک دیکھتے ہیں۔مختصر چند معیار درج ہیں۔معیار اول - فرمایا يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُم (انعام رکوع ۲) وہ لوگ اس نبی کو ویسے ہی شناخت کرتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔یعنی جس طرح بیوی کی پاکدامنی بیٹے کی صحت نسب کی دلیل ہے ویسے ہی مدعی الہام کی پاکیزہ زندگی اس کے دعوی کی صحت کی گواہ ہے۔دوسری جگہ فرمایا قَالُوا يُصْلِحُ قَدْ كُنتَ فِيْنَا مَرْجُوا قَبْلَ هَذَا ( بود رکوع ۶) حضرت صالح کی قوم نے کہا کہ اے صالح ! اِس دعوی سے پہلے تو ہماری امیدوں کا مرجع تھا۔گویا ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات۔تیسری جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہلوایا فَقَد لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (یونس رکوع ۲) کہ اے لوگو! میں اِس دعوئی وحی سے پہلے ایک لمبا عرصہ (چالیس برس) تمہارے درمیان گزار چکا ہوں کیا تم عقل نہیں کرتے ؟ یعنی دعوئی سے پہلے کی پاکیزہ زندگی میرے دعوی کی صداقت کی زبردست دلیل ہے۔یادر ہے کہ نبی کی زندگی کا ہر لمحہ ہی پاکیزہ ہوتا ہے مگر دعوی کے بعد لوگوں میں تعصب بڑھ جاتا ہے اور وہ جھوٹے الزام لگانا شروع کر دیتے ہیں اس لئے مِن قَبْلِهِ کے لفظ میں دعوئی سے پہلی زندگی کو ہی مخالفین کے سامنے بطور حجت پیش فرمایا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- موعود :- اب دیکھو خدا نے اپنی حجت کو تم پر اس طرح پورا کر دیا ہے کہ میرے دعوئی پر ہزار ہا دلائل قائم کر کے تمہیں یہ موقعہ دیا ہے کہ تا تم غور کرو کہ وہ شخص جو تمہیں اس سلسلہ کی طرف بلاتا ہے وہ کس درجہ کی معرفت کا آدمی ہے اور کس قدر دلائل پیش کرتا ہے؟ اور تم کوئی عیب ، افتراء یا جھوٹ یا دغا کا میری پہلی زندگی پر نہیں لگا سکتے تا تم یہ خیال کرو کہ جو شخص پہلے سے جھوٹ اور افتراء کا عادی ہے یہ بھی اس نے (793)