تفہیماتِ ربانیّہ — Page 786
اعجاز علمی ہوگا گویا اس پر تمام کمالات علمی کا خاتمہ کر دیا جائے گا اور اسی کو ہمارے نزدیک خاتم الانبیاء کہنا مناسب ہوگا۔‘ (اعجاز القرآن صفحہ ۶۱) ۵۰۔حضرت مولانا روم فرماتے ہیں ے بہر ایں خاتم شد است او که بجود مثل او نے بود نے خواهند بود کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس لئے خاتم ہیں کہ آپ بے مثل و بے نظیر ہیں۔مثنوی مولانا روم دفتر اول صفحه ۵۳) ان استعمالات سے ظاہر ہے کہ اہلِ عرب اور دوسرے محققین علماء کے نزدیک جب بھی کسی مدوح کو خاتم الشعراء یا خاتم الفقہاء یا خاتم المحدثین یا خاتم مفسرین کہا جاتا ہے تو اس کے معنی بہترین شاعر ، سب سے بڑا فقیہہ ، اور سب سے بلند مرتبہ محدث یا مفسر کے ہوتے ہیں۔” نبیوں کی مہر“ کا کام ہر غیر احمدی عالم کہتا ہے کہ خاتم النبیین کے لفظی معنی نبیوں کی مہر کے ہیں۔ہم اس سے اتفاق کرتے ہیں۔اب سوال اس مہر کے کام کا ہے۔پڑھئے :- (۱) حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام فرماتے ہیں :- اللہ جل شانہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صاحب خاتم بنایا یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لئے مہر دی جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی۔اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النبیین ٹھہرا۔یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی۔(حقیقۃ الوحی صفحہ ۹۷ حاشیہ ) (۲) جناب مولوی شبیر احمد صاحب عثمانی شیخ الاسلام پاکستان لکھتے ہیں :- بد میں لحاظ کہہ سکتے ہیں کہ آپ رتبی اور زمانی ہر حیثیت سے خاتم النبین ہیں اور جن کو نبوت ملی ہے آپ کی مہر لگ کر ملی ہے۔“ ( قرآن مجید مترجم علامہ عثمانی زیر آیت خاتم النبیین ) (786)