تفہیماتِ ربانیّہ — Page 780
ہو سکتے۔حضور کا ابراہیم کی وفات پر یہ ارشاد صاف دلالت کرتا ہے کہ اگر چہ بوجہ وفات صاحبزادہ ابراہیم نبی نہیں بن سکے مگر باقی افراد کے لئے امتی نبوت پانے میں آیت خاتم النبیین روک نہیں ہے۔مثال یوں سمجھئے کہ کالج کا کوئی ہونہار طالب علم فوت ہو جاتا ہے، پرنسیل کہتا ہے کہ اگر یہ زندہ رہتا تو ضرور ایم۔اے ہو جا تا۔پرنسپل کا یہ قول اس بات پر نص قاطع ہے کہ فی الجملہ ایم۔اے ہونا ممکن ہے۔اس طرح نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد لَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا اِس بات پر قطعی دلیل ہے کہ فی الجملہ اُمت میں نبی بنا ممکن ہے۔پس یہ حدیث نبوی امکان نبوت پر ایک واضح برہان ہے! خاتم النبیین کے معنی اور حضرت ملا علی القاری آپ پڑھ چکے ہیں کہ حضرت امام علی القاری نے بڑی صراحت سے حدیث کو عاش لكَانَ صِدِّيقًا نَبیا کو صحیح اور قوی حدیث قرار دیا ہے۔جماعت احمد یہ اپنے موقف کی حمایت میں امام ملا علی القاری کے قول کو بھی بطور تائیدی دلیل پیش کرتی ہے۔حضرت امام ملاعلی القاری حدیث لَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا کی سند پر بحث کرتے ہوئے اسے قومی حدیث قرار دیکر تحریر فرماتے ہیں :۔" وَمَعَ هَذَا لَوْ عَاشَ اِبْرَاهِيمُ وَصَارَ نَبِيًّا وَكَذَا لَوْ صَارَ عُمَرُ نَبِيًّا لَكَانَا مِنْ أَتْبَاعِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَعِيسَى وَالْخِضَرِ وَالْيَاسَ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ فَلَا يُنَاقِضُ قَوْلَهُ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ إِذِ الْمَعْنَى أَنَّهُ لَا يَأْتِى نَبِيُّ بَعُدَهُ يَنْسَخُ مِلَّتَهُ وَلَمْ يَكُنْ مِنْ أُمَّتِهِ وَيُقَوِّيْهِ حَدِيثُ لَوْ كَانَ مُوسَى حَيَّا لَمَا وَسِعَهُ إِلَّا اتَّبَاعِى “ ( موضوعات کبیر صفحه ۶۹) ترجمہ۔بایں ہمہ یہ بات بھی ہے کہ اگر ابراہیم زندہ رہتے اور نبی بن جاتے نیز حضرت عمر بھی نبی ہو جاتے تو وہ دونوں بھی حضرت عیسی ، حضرت خضر اور حضرت الیاس کی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع نبیوں میں سے (780)