تفہیماتِ ربانیّہ — Page 764
بیان ہے۔گویا سورۃ احزاب میں مسلمانوں کو جس فضل کی بشارت دی گئی ہے وہ یہی چار درجات ہیں جو سورہ نساء میں بیان ہوئے ہیں۔اسی لئے ان کے ذکر کے فوراً بعد فرمایا ہے ذلك الْفَضْلُ مِنَ اللہ کہ یہ وہی موعود فضل الہی ہے جس کا وعدہ مومنین امت خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کوسورۃ احزاب میں دیا گیا تھا۔آیت خاتم النبین کے آخر پر وَكَانَ اللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ علیماً لا یا گیا ہے اور آیت مَن يُطِعِ الله وَالرَّسُول کے آخر پر بھی اسی کے ہم معنی و کفی باللہ علما ذکر ہوا ہے تا صاف دلالت ہو کہ اس آیت میں خاتمیت محمدیہ کی تشریح کی گئی ہے اور اللہ تعالی کے ان انعامات وافضال کا ذکر ہے جو آپ کی اُمت کے لئے علی قدر مراتب مقرر ہیں۔امام راغب اپنی کتاب المفردات فی غریب القرآن میں لکھتے ہیں :- مَعَ يَقْتَضِئُ الْإِجْتِمَاعَ إِمَّا فِي الْمَكَانِ نَحْرُهُمَا مَعًا فِي الدَّارِ اَوْفِي الزَّمَانِ نَحْوُوُلِدَا مَعَا أَوْ فِي الْمَعْنَى كَالْمُتَضَابِفَيْنِ نَحْرُ الْآخِ وَالْآبِ فَإِنَّ أَحَدَهُمَا صَارَ أَنَّا لِلْآخَرِ فِي حَالِ مَا صَادَ 66 الْآخَرُ أَخَاهُ وَامَّا فِي الشَّرَفِ وَالرُّتْبَةِ نَحُوهُمَا مَعَا فِي الْعُلُو۔“ (المفردات زیر لفظ مع صفحه ۴۸۶) کہ لفظ مع اجتماع کا متقاضی ہے اور یہ اجتماع چار طرح سے ہو سکتا ہے (۱) دونوں ایک مکان میں اکٹھے ہوں (۲) دونوں ایک زمانہ میں اکٹھے ہوں۔(۳) دونوں ایک اضافی معنی میں شریک ہوں (۴) دونوں ایک درجہ اور مرتبہ میں یکساں ہوں۔“ ظاہر ہے کہ امت محمدیہ کے لئے سابق نبیوں ، صدیقوں ، شہیدوں اور صالحین کے ساتھ زمانی اور مکانی معیت حاصل نہیں تھی۔سابق منعم علیہم لوگوں کے ساتھ امت محمدیہ کی معیت صرف درجہ اور مرتبہ میں یکسانیت والی ہی ہوسکتی ہے۔اس قسم کی معیت آیت قرآنی وَتَوَفَّنَا مَعَ الابرار ( آل عمران : ۱۹۳) میں بھی مراد ہے۔کیونکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ ہمیں نیک ہونے کی صورت میں موت دیجیو۔یہ معنی ہرگز نہیں کہ جب کوئی نیک مرنے لگے تو ہماری بھی روح (764)