تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 761 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 761

کریں گے اُن پر نہ خوف ہوگا اور نہ وہ ھمگین ہوں گے۔“ اس آیت میں یہ بشارت ہے کہ جب تک آدمزاد موجود ہیں اور صفحہ زمین انسانوں سے آباد ہے ان میں ہی اور رسول آتے رہیں گے اور انسانوں کا فرض ہے کہ ان پر ایمان لائیں۔یادر ہے کہ اسی سورۃ میں آیت ۲۶ اور ۲۷ اور اس میں لفظ بنی ادم استعمال ہوا ہے اس سے ہر جگہ ساری نسلِ آدم مراد ہے۔بلکہ اگر غور کیا جائے تو درحقیقت اس سے وہی لوگ مراد ہیں جو نزول قرآن مجید کے وقت اور اس کے بعد موجود تھے یا ہونے والے تھے۔ایک آیت میں فرمایا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ ه کہ اے آدمزاد و! ہر مسجد میں اپنی زینت لیکر جاؤ، کھاؤ پیو مگر اسراف نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس بنی آدم سے حضرت آدم کے وقت کی اُن کی اولاد مخاطب تھی ؟ پس آیت یا بني أدم اما يأتينكم رسل منکم میں اصل خطاب آئندہ کے انسانوں سے ہے۔ہاں عمومی رنگ میں پہلے بھی شامل کئے جاسکتے ہیں۔مگر بہر حال اس کی تو ہر گز گنجائش نہیں کہ بنی آدم سے مراد صرف پہلے کے انسان ہوں، گو یا بعد کے انسان آدمزاد ہی نہیں۔حضرت امام سیوطی یا بنی ادم کے متعلق لکھتے ہیں : فَاِنَّهُ خِطَابٌ لِاَهْلِ ذَالِكَ الزَّمَانِ وَلِكُلِّ مَنْ بَعْدَهُ - کہ اس میں سب زمانوں کے لوگوں سے خطاب کیا گیا ہے۔“ ( انقان جلد ۲) (۳) وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِم رَبُّهُ بِكَلِمَةٍ فَأَتَمَّهُنَّ ، قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي ، قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِى الظَّلِمِينَ (البقرہ: ۱۲۵) یاد کرو جب حضرت ابراہیم کی اس کے رب نے چند اوامر کے ذریعہ آزمائش کی اور حضرت ابراہیم نے انہیں ٹھیک ٹھیک پورا کر دیا تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے ابراہیم ! میں تجھے لوگوں کے لئے امام بنا تا ہوں تو اب سے ہمارا نبی اور رسول ہے۔حضرت ابراہیم نے عرض کی اے خداوند! میری اولاد میں بھی یہ سلسلہ امامت جاری رکھیو۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، ہاں مگر ظالموں سے میرا یہ عہد نہیں ہے۔“ (761)