تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 755 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 755

اگر مودودی صاحب قرآن پاک پر تدبر فرماتے تو تو اس تکلف اور تعصب کی ہرگز ضرورت نہ تھی۔بات بالکل واضح تھی اور سیاق و سباق معین طور پر نمایاں تھا۔یه درست ہے کہ کلمہ لکن استدراک کے لئے آتا ہے ( دَفْعُ تَوَهُم نَاشِ عَنْ كلام سابق ) یعنی گزشتہ کلام سے پیدا ہونے والے سوال یا اعتراض کا ازالہ کرنے کے لئے۔اب دیکھنے والی بات یہ ہے کہ سابقہ قرآنی آیات کے مطابق کفار و منافقین کے کس اعتراض کا جواب دوسرے حصہ آیت وَلكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّن میں دیا گیا ہے اور وہ جواب کیا ہے؟ بات یوں ہے کہ ملکی زندگی میں کفار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتر کہتے تھے۔لکھا ہے :۔دو کہتے تھے کافر اس شخص کے بیٹا نہیں۔زندگی تک اس کا نام ہے پیچھے کون نام لے گا؟ ( موضح القرآن ) اس پر آیت إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ نازل ہوئی۔کہ تیرا دشمن ہی ابتر رہے گا تجھے تو اللہ تعالٰی اولا دکثیر عطا کرے گا۔جلالین میں لکھا ہے :- ”نَزَلَتْ فِي الْعَاصِ بْنِ وَاتْلٍ سَقَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَرَ عِنْدَ مَوْتِ ابْنِهِ الْقَاسِمِ “ - کہ یہ آیت عاص بن وائل سے متعلق اُس وقت نازل ہوئی تھی جب اُس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے صاحبزادے قاسم کی وفات کے موقع پر ابتر کہا تھا۔“ (جلالین جلد ۲ صفحہ ۲۷۵) اس کے ساتھ یہ بھی یادرکھئے کہ سورہ احزاب کی آیت ۵ میں اعلان کیا جا چکا تھا النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُةَ أَمَّهُتُهُمْ کہ یہ پیغمبر مومنوں کا اُن کی جانوں سے بھی زیادہ خیر خواہ ہے، اس کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں۔“ ظاہر ہے کہ جب پیغمبر علیہ السلام کی بیویاں مومنوں کی مائیں ٹھہریں تو آپ لامحالہ مومنوں کے باپ قرار پائے۔اب آگے چل کر حضرت زید کی مطلقہ سے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے شادی کرنے " (755)