تفہیماتِ ربانیّہ — Page 69
انبیاء کے روحانی محاورہ کی تغلیط کرنا ہے۔افسوس کہ حقیقت صافیہ ان ناواقف لوگوں کی نظر میں مور د طعن بن گئی۔کیا کوئی اہل دل ہے جو مشہور صوفی حضرت سہل کے اس قول پر توجہ کرے۔یعنی :- " الْخَوْفُ ذكَرُ وَالرَّجَاءُ انْثَى مَعْنَاهُ مِنْهُمَا يَتَوَلَّهُ حَقَائِقُ الْإِيْمَان» (شرح التعرف صفحه ۵۷) اور ولادت معنویہ کی حقیقت کو سمجھ لے؟ دوم - حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے المخاض (در وزہ) کی خود تشریح فرما دی ہے۔حضور تحریر فرماتے ہیں :- ”میری دعوت کی مشکلات میں سے ایک رسالت اور وحی الہی اور مسیح موعود ہونے کا دعوی تھا۔اس کی نسبت میری گھبراہٹ ظاہر کرنے کے لئے یہ الہام ہوا تھا۔فَآجَاءَهُ الْمَخَاضُ إِلى جِذْعِ النَّخْلَةِ قَالَ يَلَيْتَنِيْ مِثْ قَبْلَ هَذَا وَكُنْتُ نَسْيًّا قَنْسِيًّا - مخاض سے مراد اس جگہ وہ امور ہیں جن سے خوفناک نتایج پیدا ہوتے ہیں اور جذع النخلة سے مراد وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں کی اولاد مگر صرف نام کے مسلمان ہیں۔بامحاورہ ترجمہ یہ ہے کہ دردانگیز دعوت جس کا نتیجہ قوم کا جانی دشمن ہو جانا تھا اس مامور کو قوم کے لوگوں کی طرف لائی جو کھجور کی خشک شاخ یا جڑ کی مانند ہیں۔تب اُس نے خوف کھا کر کہا کہ کاش میں اس سے پہلے مرجاتا اور پھولا پسر ا ہو جاتا۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۵۳) اس تشریح کو دیکھ کر کوئی منصف مزاج انسان اس الہام پر اعتراض نہیں کرسکتا۔تفسیر القول بما لا يرضی به قائله بہر صورت نا جائز ہوتی ہے۔مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے لکھا ہے :- " حسب قاعده مسلّمه فریقین مرزا صاحب کے فہمیدہ معنے صحیح ہوں گے۔“ الہامات مرزا صفحه (۸) ا ترجمہ۔خوف مذکر ہے اور امید مؤنث۔ان کے ملنے سے حقیقت ایمان پیدا ہوتی ہے۔سے صیغہ ہائے مذکر بھی بتلاتے ہیں کہ یہ دروزہ عورتوں والا نہیں۔اے کاش ! معاندین تدبر سے کام لیں۔المؤلّف 69