تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 68 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 68

وو يَصِيرُ الْمُرِيدُ جُزْء الشَّيْحَ كَمَا أَنَّ الْوَلَدَ جُزْء الْوَالِدِ فِي الْوِلَادَةِ الطَّبِيعِيَّةِ وَتُصِيرُ هَذِهِ الْوِلَادَةُ أَنِفًا وَلَادَةً مَعْنَوَيَّةً كَمَا وَرَدَ عَنْ عِيسَى صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، لَنْ يَلِجَ مَلَكُوتَ السَّمَاءِ مَنْ لَمْ يُولَدُ مَرَّتَيْنِ فَبِالْوِلَادَةِ الْأُولَى يَصِيرُ لَهُ ارْتِبَاطُ بِعَالَمِ الْمُلْكِ وَبِهِذِهِ الْوِلَادَةِ يَصِيرُ لَه ارْتِبَاطُ بِالْمَلَكُوتِ ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى وَكَذَالِكَ نُرِئَ إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ وَصَرْفُ الْيَقِيْنِ عَلَى الْكَمَالِ يَحْضُلُ فِي هَذِهِ الْوِلَادَةِ وَبِهْذِهِ الْوِلَادَةِ يَسْتَحِقُ مِيْرَاثَ الْاَنْبِيَاءِ وَمَنْ لَّمْ يَصِلُهُ مِيْرَاثُ الْأَنْبِيَاءِ مَاوُلِدَ وَإِنْ كَانَ عَلَى كَمَالٍ مِّنَ الْفِطْنَةِ وَالذَّكَاءِ“ عوارف المعارف جلد اول صفحه ۴۵) ترجمہ - مرید اپنے شیخ کا اسی طرح حصہ بن جاتا ہے جس طرح کہ ولادت طبعی میں بیٹا اپنے باپ کا حصہ ہوتا ہے۔مرید کی ولادت ولادتِ معنوی ہوتی ہے۔حضرت عیسی نے فرمایا ہے کہ جو شخص دو دفعہ پیدا نہیں ہوتا وہ خدا کی بادشاہت میں داخل نہیں ہوسکتا۔ولادت طبعی سے انسان کا دنیا سے تعلق ہوتا ہے اور ولادتِ معنوی سے ملکوت اعلیٰ کے ساتھ۔یہی معنی اس آیت کے ہیں وَكَذَ الكَ نُرِى إِبْرَاهِيمَ - خالص اور کامل یقین اسی ولادت کے ساتھ حاصل ہوتا ہے اس پیدائش کے باعث ہی انسان انبیاء کی وراثت کا مستحق ہوتا ہے۔جس شخص کو وراثت انبیاء نہ ملے وہ باوجود دانا و ہوشیار ہونے کے پیدا نہیں ہوا۔“ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا موتوا قبل ان تموتوا (حدیث) که مرنے سے پہلے موت قبول کرو۔یعنی حقیقی زندگی خواہشات پر موت وارد کرنے کے بغیر ناممکن الحصول ہے۔گویا فرمایا کہ جب تم گناہ آلود جامہ کو سانپ کی کینچلی کی طرح بدل لو گے تب تم نئے انسان ہو گے۔اسی کا نام اصطلاح تصوف میں ولادتِ ثانیہ ہے۔چنانچہ تمام صوفیاء اس لفظ ولادت کو استعمال کرتے ہیں۔حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نے بھی استعمال فرمایا ہے۔پولوس رسول“ لکھتا ہے :- اگر کوئی مسیح میں ہے تو وہ نیا مخلوق ہے۔(۲-کرنتیوں ۵/۱۷) اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس استعارہ پر اعتراض کرنا دراصل تمام اولیاء و 68