تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 731 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 731

فرماتا ہے وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ اَوْ يَقْتُلُوكَ اَوْ يُخْرِجُوكَ، وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّهُ وَاللهُ خَيْرُ الْمُكِرِينَ مسیح کے آسمان پر جانے کا منکر کا فرقرار نہیں دیا جا سکتا! اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ :- اول - قرآن کریم میں نیز سُنتِ نبویہ مقدسہ میں کوئی ایسی سند موجود نہیں جس پر اس عقیدہ کو اطمینانِ قلب سے مبنی سمجھا جا سکے کہ حضرت عیسی جسم سمیت آسمان پر اٹھائے گئے تھے اور اب تک وہاں زندہ ہیں اور وہاں سے آخری زمانہ میں زمین پر اُتریں گے۔دوم۔اس بارے میں قرآن کریم کی آیات سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ اسے وقت مقررہ پر وفات دے گا اور اس کا اپنی طرف رفع کرے گا اور کافروں سے اُسے محفوظ رکھے گا اور یہ وعدہ پورا ہو گیا ہے۔حضرت مسیح کے دشمن اسے مقتول و مصلوب نہیں بنا سکے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی مدت پوری کر کے انہیں وفات دے دی اور اپنی طرف رفع فرمایا۔سوم۔پس جو شخص مسیح کے جسم سمیت آسمانوں پر اُٹھائے جانے اور وہاں زندہ ہونے اور آخری زمانہ میں آسمان سے اترنے کا انکار کرتا ہے وہ کسی ایسی چیز کا انکار نہیں کرتا جو دلیل قطعی سے ثابت ہو لہذاوہ ایمان و اسلام سے خارج نہیں ہو جاتا۔اس پر ارتداد کا حکم لگا نا ہر گز درست نہیں بلکہ وہ مسلمان اور مومن ہے۔جب وہ فوت ہو تو مومنوں کی طرح اس کا جنازہ پڑھا جانا چاہئے اور مسلمانوں کے قبرستان میں اُسے دفن کیا جانا چاہئے۔عند اللہ اس کے ایمان میں کوئی شبہ نہیں۔واللهُ بِعِبَادِهِ خَبِيرٌ بَصِيرٌ۔“ ) کتاب الفتاوی مطبوعه از هر دسمبر ۱۹۵۹ : ۵۲ تا ۵۸) (731