تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 67 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 67

میں وہ پانی ہوں کہ آیا آسماں سے وقت پر میں وہ ہوں نورِ خدا جس سے ہوا دن آشکار ایک دوسرے موقعہ پر لوگوں کو دعوت دیتے ہوئے لکھا ہے فَإِن شِئْتَ مَاءَ اللَّهِ فَاقْصُدُ مَنَاهِلِي فَيُعْطِكَ مِنْ عَيْنٍ وَعَيْن تُنَورُ (کرامات الصادقين ) کہ اگر تم خدا کا پانی چاہتے ہو تو میرے گھاٹ پر آؤ۔تمہیں چشمہ نصیب ہوگا جس سے نورانیت حاصل ہوگی۔ایک نہایت گندے اعتراض کا جواب (ج) اللہ تعالیٰ سے ہم بستری اور زنا شوئی کا الزام“ مصنف مذکور نے اس عنوان کے ماتحت ایک خبطی قاضی یار محمد صاحب کی روایت درج کی ہے کہ حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ میں کشف میں عورت بن گیا الخ۔ہم اس بیان کو سراسر جھوٹ اور افتراء سمجھتے ہیں۔یہ محض اس کے دماغی نقص کا نتیجہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کبھی ایسا نہیں فرمایا اور نہ ہمارے مسلمات میں داخل ہے۔جماعت احمد یہ ایسے لوگوں کی ذمہ وار نہیں۔کیا مصنف عشرہ کو احادیث کا طومار وضعیات معلوم نہیں جنہیں ہمیشہ دشمنان اسلام پیش کرتے رہتے ہیں؟ اس قسم کی ہفوات کوسند میں پیش کرنا انتہائی سفاہت کی دلیل ہے ویس۔کا استعارہ کے رنگ میں حمل کا جواب (3 - 8) ان دونوں شقوں کے عنوان مصنف عشرہ نے استقرار حمل “ اور ” در دزہ رکھے ہیں۔اور کشتی نوح صفحہ ۴۷ کی عبارت پیش کی ہے جہاں لکھا ہے :۔"مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا الخ“ (عشرہ صفحہ ۳۳) الجواب - اوّل۔چونکہ اصل عبارت میں لفظ استعارہ کے رنگ میں موجود ہے اسلئے واضح بات ہے کہ یہ ولادت معنوی ہے جو اہل تصوف کے محاورات میں بکثرت مستعمل ہے۔چنانچہ امام الطائفہ الشیخ السر وردی فرماتے ہیں :- 67