تفہیماتِ ربانیّہ — Page 714
وہ نہیں کھاتے اس لئے ان کی موت بدیہی امر ہے۔(۲) مَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُوْلُ : قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ الآيه (مائده ركوع ١٠) وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ الآيه ( آل عمران رکوع ۱۵) ترجمہ مسیح بن مریم ایک رسول ہیں ان سے پہلے تمام رسول فوت ہو گئے۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک رسول ہیں آپ سے پہلے تمام رسول فوت ہو گئے ہیں۔“ ران دو میں سے پہلی آیت میں حضرت مسیح سے پہلے کے رسولوں کی وفات کا تذکرہ تھا، حضرت مسیح باہر رہ جاتے تھے اس لئے دوسری آیت میں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے جملہ نبیوں کی موت کا ذکر فرمایا تا کہ حضرت عیسی کی وفات بھی صراحتا سمجھ آجائے۔خلت کے معنی اس جگہ صرف موت ہی ہو سکتے ہیں جس میں سب نبی مساوی ہیں اور جس پر لفظ آفَائِن مَّاتَ أَوْ قُتِل بھی بطور قرینہ مختصہ لایا گیا ہے۔گو یا خلت کی دوہی صورتیں تھیں، موت یا قتل۔حضرت مسیح قتل تو ہوئے نہیں پس ان کی طبعی موت ثابت ہے۔(۳) جب کفار مکہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ تو آسمان پر جا کر وہاں سے کتاب لے آ تب ہم تجھے سچا رسول مان لیں گے تو اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا قلی سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولًا ) بنی اسرائیل رکوع ۱۰) کہ ان کو کہہ دے کہ میرا رب پاک ہے میں تو ایک بشر رسول ہوں۔یعنی اللہ تعالیٰ اپنے قانون فِيهَا تَخيَونَ کو توڑنے سے پاک ہے اور ذاتی طور پر میرے اندر طاقت نہیں۔اب کیونکر تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے برخلاف اپنے وعدہ کے حضرت مسیح کو آسمان پر بٹھالیا یا وہ بشر رسول ہو کر خود چلے گئے جبکہ سید الاولین والآخرین کے لئے یہ بات جائز نہ رکھی گئی؟ ممکن ہے کسی بھائی کو وہم گزرے کہ شب معراج رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم بھی تو آسمان پر گئے تھے۔اس لئے یادر ہے کہ قرآن پاک میں اسراء کی رات آسمان پر جانا ہرگز مذکور نہیں۔اگر ہے تو کوئی دکھلائے؟ باقی اگر کہو کہ احادیث میں ہے تو یہ سچ ہے مگر خود بخاری شریف میں تمام واقعہ معراج کے اخیر پر لکھا ہے وَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ( بخاری جلد ۴ صفحه ۲۰۰ مطبوعہ مصر ) کہ پھر آپ جاگ اُٹھے اور (714)