تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 691 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 691

وَالْخَنَازِيرَ (مائدہ) کہ کرکتا، گدھا، سُور اور بندر قرار دیا ہے۔مسیح ناصری کے الفاظ بھی ایسے لوگوں کے حق میں اوپر نقل ہوچکے ہیں۔پس یہ الفاظ برمحل اور عند الضرورت اظہار حق کی خاطر نبیوں نے بولے ہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے اِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ وَالْمُشْرِكِينَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَلِدِينَ فِيهَا أُولَبِكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّة ( سوره البينه ) جو لوگ کافر ہیں مشرک ہوں یا اہلِ کتاب جہنم کی آگ میں رہیں گے اور یہ سب مخلوقات سے (جن میں سور، بندر اور کتے بھی شامل ہیں) بدتر ہیں۔یہ الفاظ یقینا گالی نہیں بلکہ ان برے لوگوں کی روحانی بری حالت کا بیان ہے۔اس کے مقابلہ میں دشمنان حق کو خنازير الفلا“ قرار دینا درحقیقت شر البريه ط کی نرم سی تفسیر ہے۔لہذا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ پر اعتراض کرنا غلطی ہے۔ہمیں تعجب ہے کہ معاندین ان الفاظ کو جو محض خاص بد زبان علماء کے لئے جوابی طور پر کئے گئے تھے اپنے اوپر چسپاں کرنے کی خواہ مخواہ کوشش کرتے ہیں اور عوام کو اشتعال دلانا چاہتے ہیں۔صاف ظاہر ہے کہ اگر وہ نیک ہیں تو وہ تومستی ہی ہیں۔ہم اس جگہ جناب پیر جماعت علی شاہ صاحب کا ایک حوالہ بطور نمونہ درج کرتے ہیں۔خود مولوی ثناء اللہ صاحب نے پیر صاحب کا قول اہلحدیثوں کے سلسلہ میں اپنے اخبار اہلحدیث میں نقل کیا ہے۔پیر صاحب نے کہا ہے کہ : بعض لوگوں سے پوچھا جاتا ہے کہ تم کون مذہب ہو تو اپنا مذہب نہیں بتلاتے کہتے ہیں کہ ہم محمد ہی ہیں۔خیر یہ حرامزادے کچھ کہیں میں تو شفی مذہب ہوں۔( اہلحدیث ۱۶ اکتوبر ۱۹۳۱ء) (۱۸) هَذَا خَلِيفَةُ اللَّهِ الْمَهْدِی کا جواب مولوی ثناء اللہ صاحب نے شہادۃ القرآن کی عبارت جس میں حدیث هَذَا خَلِيفَةُ اللهِ الْمَهْدِئ کا بخاری میں ہونا مذکور ہے ذکر کر کے لکھا ہے یہ حدیث بخاری میں نہیں۔اتباع مرز ادکھا ئیں تو ہم مشکور ہوں گے۔تعلیمات صفحه ۱۴) الجواب ا - یہ حدیث ابونعیم تلخیص المتشابہ میں موجود ہے۔حج الکرامہ صفحہ ۳۶۶ پر بھی مذکور ہے۔علامہ سندی نے هذَا خَلِيْفَةُ اللهِ الْمَهْدِی “ والی روایت پر لکھا ہے :- (691