تفہیماتِ ربانیّہ — Page 664
یہ سراسر غلط ہے۔کیا حضرت عائشہ ، حضرت معاویہؓ اور حضرت امام حسن بصری کے سامنے بھی قائلین حیات مسیح تھے جو انہوں نے ایسا عقیدہ ظاہر کیا؟ ہر گز نہیں ! پس یہ استلزام باطل ہے۔جسمانی معراج اور مسیح کے دو ہزار برس آسمان پر زندہ رہنے میں کوئی تلازم نہیں۔بھلا اگر جسمانی معراج جس کا عرصہ صرف ایک شب ہے آنحضرت کی افضلیت کی دلیل ہے تو پھر مسیح کا اتنا عرصہ جسم سمیت آسمانوں پر بیٹھے رہنا کیوں اُن کی افضلیت علی الانبیاء کی دلیل نہ ہو گا ؟ اسلام کے یہ نادان دوست ہر رنگ میں اسلام سے دشمنی کر رہے ہیں۔(۳) يُدْفَنُ مَعِي فِي قَبْرِى منشی محمد یعقوب صاحب نے ابن جوزی کی اس روایت کو پیش کر کے حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی نیز اُن کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں دفن ہونے کا ذکر کیا ہے۔ہم اس جگہ اس روایت کے متعلق تفصیلی نقد و تبصرہ کرنا نہیں چاہتے۔حدیث کو صحیح تسلیم کرتے ہوئے صرف اتنا بتانا ضروری ہے کہ اس کے ظاہری معنی ہرگز ہرگز درست نہیں۔لفظ نزول یا نزول الی الارض جسم خاکی سمیت آسمان سے اترنے کو مستلزم نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔قد انْزَلَ اللهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرَارٌ سُولًا يَتْلُوا عَلَيْكُمْ آیت الله (الطلاق رکوع ۲) کہ ہم نے اس رسول کو جو تم پر آیات اللہ کی تلاوت کرتا ہے نازل کیا ہے۔“ آیت میں لفظ نزول بھی ہے اور اہل الدنیا کو مخاطب کر کے الیکم بھی موجود ہے مگر پھر بھی آپ کا آسمان سے جسم خاکی کے ساتھ آنا مراد نہیں۔یہی حال اس حدیث کے لفظ نزول کا ہے۔یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کو ہی تعظیماً اور اکر اما نزول کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔درحقیقت ہر نبی اپنی ماموریت سے پیشتر دنیا سے منقطع ہو کر بلحاظ قرب اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچ جاتا ہے۔تب اللہ تعالیٰ اس کو اپنی طرف سے ہدایت خلق کے لئے بھیجتا ہے پس یہ بھیجنا ہی نزول کہلاتا ہے۔ورنہ جس شخص کی وفات پر قرآنی نصوص قطعیۃ الدلالت ہوں اس کا آسمان سے بجسده العصری آنا چہ معنی دارد؟ اس حدیث کا جملہ يُدْفَنُ مَعِي في قبری بھی اپنے ظاہری معنوں پر محمول نہیں ہوسکتا۔ور نہ حسب ذیل خرابیاں لازم آئیں گی۔(664)