تفہیماتِ ربانیّہ — Page 663
آنحضرت کی رُوح کے ساتھ ہوا تھا۔ان دونوں میں فرق یوں ہے کہ خُفتہ انسان محسوس صورتوں کی امثال دیکھتا ہے۔وہ دیکھتا ہے کہ میں آسمان پر یا مکہ لیجایا گیا ہوں یا زمین کے کناروں پر پہنچایا گیا ہوں لیکن اس کی روح نہ اٹھائی گئی ہوتی ہے اور نہ کہیں جاتی ہے، صرف خواب کا فرشتہ وہ مثال پیدا کر دیتا ہے جو لوگ آنحضرت کے عروج کے قائل ہیں ان کے دو گروہ ہیں (۱) ایک جماعت اسے روح اور جسم کے ساتھ مانتی ہے (۲) دوسری جماعت اسے صرف رُوح کے ساتھ مانتی ہے۔مؤخر الذکر جماعت کا یہ مدعا نہیں کہ معراج خواب ہے، ان کا مطلب صرف یہ ہے کہ حضور کی روح کو حقیقتہ اٹھایا گیا تھا اور اُسے وہی حالات پیش آئے تھے جو جسم چھوڑنے کے بعد آتے ہیں، اسی حالت میں وہ آسمانوں پر یکے بعد دیگرے چڑھ گئی ، یہاں تک کہ وہ ساتویں آسمان میں اللہ تعالیٰ کے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق حکم کیا اور وہ پھر زمین پر واپس آگئی۔پس اسراء کی رات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جو ہو اوہ انتہائی حالتِ کاملہ ہے، وہ سونے والے کی خواب سے بدرجہا بالا تر ہے کیونکہ حضور کی اسی حالت میں خارق عادت امور ظاہر ہوئے۔آپ زندہ تھے آپ کا بطن مبارک چیرا گیا مگر آپ کو درد محسوس نہ ہوئی۔پس حقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رُوح مقدس ہی اٹھائی گئی تھی اور یہ واقعہ بغیر مرنے کے ہوا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی انسان ایسا نہیں کہ اس کی روح بغیر موت آسمان پر جاسکے۔نبیوں کی روحیں بھی آسمان پر جسموں کو چھوڑ دینے کے بعد قرار گیر ہوئیں ہیں۔“ ناظرین کرام ! اس طویل اقتباس سے ظاہر ہے کہ صحابہ کے ایک عظیم الشان گروہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج کو بیداری کا کشف قرار دیا ہے اور یہی ہمارا مذہب ہے۔ہاں اس اقتباس کے آخری فقرات سے ظاہر ہے کہ جتنے بھی نبی آسمان پر مقیم ہیں وہ سب بعد موت ہی وہاں ہیں۔لہذا معلوم ہوا کہ حضرت عیسی علیہ السلام بھی فوت ہو چکے ہیں۔کیونکہ معراج کی رات حضور علیہ السلام نے مسیح کو بھی حضرت سکیٹی کے ساتھ دوسرے آسمان پر دیکھا تھا۔معترض نے کہا ہے کہ محض موت عیسی کے لئے احمدی جسمانی معراج کے منکر ہیں۔حالانکہ (663)