تفہیماتِ ربانیّہ — Page 658
تھے کہ کیا ہم اس دیوانہ شاعر کی وجہ سے اپنے بتوں کو ترک کر دیں؟ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے متعلق فرمایا وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ (الحاقہ رکوع ۴) کہ یہ قرآن مجید شاعر کا کلام نہیں۔گویا نہ حضرت رسول پاک شاعر ہیں اور نہ ہی قرآن مجید شعر ہے۔ظاہر ہے کہ قرآن مجید کو اصطلاحی معنوں میں کوئی جاہل سے جاہل عرب بھی شعر نہیں کہ سکتا۔قرآن پاک میں شعروں کی طرح اوزان اور بحور قطعا نہیں ہیں۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ عرب لوگ رکن معنوں میں قرآن مجید کو شعر اور رسول مقبول کو شاعر کہتے تھے؟ امام راغب اصفہانی اپنی مشہور لغت میں لفظ شعر کے نیچے لکھتے ہیں : الشَّعْرُ يُعَبَّرُ بِهِ عَنِ الْكَذِبِ (المفردات للراغب) کہ شعر کا لفظ جھوٹ کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔“ انہی معنوں میں عرب لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شاعر کہتے تھے اور اسی مفہوم میں قرآن پاک کو شعر قرار دیتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید میں فرمایا کہ نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شاعر ہیں اور نہ ہی قرآن مجید شعر ہے بلکہ آپ صادق و مصدوق ہیں اور قرآن مجید ذکر اور مقدس قانونِ شریعت ہے آیت کریمہ میں قرآن مجید کے شعر ہونے کی نفی کرتے ہوئے اسے ذکر قرار دیا گیا ہے۔نیز اسے قُرآن مبین کہا گیا ہے۔اس تقابل سے عیاں ہے کہ آیت میں شعر سے مراد کذب بیانی اور غلط گوئی ہے، اس کی نفی کی گئی اور یہ بات روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ کوئی نبی جھوٹ نہیں بول سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف شعر بمعنی جھوٹ منسوب کرنا خود افتراء ہے۔الجواب الثانی علم منطق میں شعریات ان مقدمات اور قیاسات کو کہتے ہیں جو حقیقت پر مبنی نہ ہوں مگر مخاطب کے جذبات پر اثر انداز ہو جائیں۔گویا ایک قسم کا مغالطہ دیگر غیر حقیقت کو حقیقت ثابت کرنے کا نام شعر ہوتا ہے جسے اُردو میں عموماً جذبات سے کھیلنا کہتے ہیں۔انبیاء علیہم السلام اس بات سے پاک ہوتے ہیں اور ان کا لایا ہوا کلام اس قسم کے انداز سے سراسر مبر ا ہوتا ہے۔ان کا کلام ذکر ہوتا ہے۔ان معنوں میں شعر نہیں ہوتا اور نہ ہوسکتا ہے۔مشہور منطقی عالم میرسید شریف لکھتے ہیں :- (658)