تفہیماتِ ربانیّہ — Page 60
نام سے خدا کو پکارا گیا ہے اور خدا تعالیٰ کو استعارہ کے رنگ میں ماں سے بھی ایک مشابہت ہے اور وہ یہ کہ جیسے ماں اپنے پیٹ میں اپنے بچہ کی پرورش کرتی ہے ایسا ہی خدا تعالٰی کے پیارے بندے خدا کی محبت کی گود میں پرورش پاتے ہیں اور ایک گندی فطرت سے ایک پاک جسم انہیں ملتا ہے۔سو اولیاء کو جو صوفی اطفال حق کہتے ہیں یہ صرف ایک استعارہ ہے ورنہ خدا اطفال سے پاک اور لَم يَلِدْ وَلَمْ يُولد ہے۔( تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۴۴) اس تصریح کی موجودگی میں اختفاء کا کوئی پہلو باقی نہیں رہتا۔مُلہم نے اپنے الہام کی تشریح خود بیان کر دی۔(منی) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی جماعت کے لوگوں کو ان الہامات کے بارہ میں جو ہدایت فرمائی ہے وہ حسب ذیل ہے۔ہم ان متعد د عبارات میں سے بغرض اختصار صرف دو حوالے درج کرتے ہیں۔حضور فرماتے ہیں :- وو (1) یادر ہے خدا تعالے بیٹوں سے پاک ہے۔نہ اس کا کوئی شریک ہے اور نہ بیٹا ہے۔اور نہ کسی کو حق پہنچتا ہے کہ وہ یہ کہے کہ میں خدا ہوں یا خدا کا بیٹا ہوں۔لیکن یه فقره ( أنتَ مِنَى بِمَنْزِلَةِ أَو لا دى ) اس جگہ قبیل مجاز اور استعارہ میں سے ہے۔خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ قرار دیا اور فرما یا يَدُ اللهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمُ ایسا ہی بجائے قُلْ يَا عِبَادَ اللَّهِ کے قُلْ يُعِبَادِئ بھی کہا اور یہ بھی فرمایا فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ پس اس خدا کے کلام کو ہشیاری اور احتیاط سے پڑھو اور از قبیل متشابہات سمجھ کر ایمان لاؤ اور اس کی کیفیت میں دخل نہ دو اور حقیقت حوالہ بخدا کرو اور یقین رکھو کہ خدا اتخاذ ولد سے پاک ہے۔تاہم متشابہات کے رنگ میں بہت کچھ اس کے کلام میں پایا جاتا ہے۔پس اس سے بچو کہ متشابہات کی پیروی کرو اور ہلاک ہو جاؤ۔اور میری نسبت بینات میں سے یہ الہام ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہے۔قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلهُ وَاحِدٌ وَالْخَيْرُ كُلَّهُ فِي الْقُرْآنِ۔“ " ( دافع البلاء صفحہ ۶-۷) 60