تفہیماتِ ربانیّہ — Page 642
بھی اسی شخص کو ملتی ہے جو جھوٹا ہو کر بچے سے مباہلہ کرے۔پس ثابت ہوا کہ اشتہار ۱۵ را پریل دعائے مباہلہ تھا : دلیل پنجم۔اس امر کا ایک ثبوت کہ یہ اشتہار سلسایہ مباہلہ کی ہی کڑی تھا، یہ ہے کہ حضور نے اس اشتہار میں مولوی ثناء اللہ امرتسری کے لئے جس نوعیت سزا کا اعلان کیا ہے۔وہ بعینہ وہی ہے جو قبل ازیں انجام آتھم ، اعجاز احمدی، اور اخبار بدر ۱/۴ پریل میں مذکور ہوئی ہے۔ہم اس جگہ ہر چہارا اقتباس درج کرتے ہیں :- (۱) انجام آتھم میں دُعائے مباہلہ کے الفاظ جو در صورت مباہلہ کہے جانے تھے یہ ہیں:۔تو ان مخالفوں کو جو اس وقت حاضر ہیں، ایک سال کے عرصہ تک نہایت سخت دُکھ کی مار میں مبتلا کر کسی کو اندھا کر دے، اور کسی کو مجذوم، اور کسی کو مفلوج ، اور کسی کو مجنون، اور کسی کو مصروع ، اور کسی کو سانپ یاسگ دیوانہ کا شکار بنا۔اور کسی کے مال پر آفت نازل کر، اور کسی کی جان پر، اور کسی کی عزت پر “ (انجام آتھم صفحہ ۶۶) (۲) ” شرط یہ ہوگی کہ کوئی موت قتل کے رُو سے واقع نہ ہو۔بلکہ محض بیماری کے ذریعہ سے ہو۔مثلاً طاعون سے یا ہیضہ سے یا کسی اور بیماری سے۔“ ( اعجاز احمدی صفحه ۱۴) (۳) ہم خُدا سے دُعا کریں گے کہ یہ عذاب جو جھوٹے پر پڑے وہ اس طرز کا ہو کہ اس میں انسانی ہاتھ کا دخل نہ ہو۔“ ( اخبار بدر ۱٫۴ اپریل ۱۹۰۷ء) (۴) اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھ سے ہے۔جیسے طاعون ، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئیں تو میں خدا کی طرف سے نہیں۔“ (اشتہار ۱۵ را پریل ۱۹۰۷ء) ہر منصف مزاج انسان ہر چہار عبارتوں کو ایک ہی لڑی میں پرویا ہوا پائے گا۔اور اُسے ضرور ماننا پڑے گا کہ اشتہار ۱۵/ اپریل کی نوعیت عذاب وہی ہے جو پہلے سلسلہ مباہلہ میں متعین ہو چکی ہے۔پس اشتہار ۱/۱۵ اپریل ۱۹۰۷ ء بھی اسی سلسلہ کی آخری کڑی یعنی دُعائے مباہلہ ہے۔جسے مولوی ثناء اللہ صاحب نے منظور نہ کیا۔اور مباہلہ منعقد نہ ہوا (642)