تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 634 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 634

اور پھر اس طریق کا فیصلہ کو منظور فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہایت زور دار الفاظ میں پیشگوئی فرما دی کہ :- اگر اس چیلنج پر وہ مستعد ہوئے کہ کا ذب صادق کے پہلے مرجائے تو ضرور وہ پہلے مریں گے۔“ ( اعجاز احمدی صفحہ ۳۶) یہ طریق فیصلہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عین مراد تھی۔کیونکہ حضرت اقدس اس سے قبل اربعین میں لکھ چکے تھے :- نیا مجھے کونہیں پہچانتی لیکن وہ مجھے جانتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے۔یہ ان لوگوں کی غلطی ہے، اور سراسر بد قسمتی ہے کہ میری تباہی چاہتے ہیں۔میں وہ درخت ہوں جس کو مالک حقیقی نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے۔جو شخص مجھے کا ٹنا چاہتا ہے، اس کا نتیجہ بجز اس کے کچھ نہیں کہ وہ قارون اور یہودا اسکر یوطی اور ابو جہل کے نصیب سے کچھ حصہ لینا چاہتا ہے۔میں ہر روز اس بات کے لئے چشم پر آب ہوں کہ کوئی میدان میں نکلے اور منہاج نبوت پر مجھ سے فیصلہ کرنا چاہے۔پھر دیکھے کہ خدا کس کے ساتھ ہے ؟ مگر میدان میں نکلنا کسی محنت کا کام نہیں۔ہاں غلام دستگیر ہمارے ملک پنجاب میں گھر کے لشکر کا ایک سپاہی تھا جو کام آیا۔اب ان لوگوں میں سے اس کے مثل بھی کوئی نکلنا محال اور غیر ممکن ہے۔اے لوگو! تم یقینا سمجھ لو کہ میرے ساتھ وہ ہاتھ ہے جو اخیر وقت تک مجھ سے وفا کرے گا۔اگر تمہارے مرد ، اور تمہاری عورتیں، اور تمہارے جوان، اور تمہارے بوڑھے، اور تمہارے چھوٹے ، اور تمہارے بڑے سب مل کر میرے ہلاک کرنے کے لئے دُعائیں کریں یہاں تک کہ سجدے کرتے کرتے ناک گل جائیں اور ہاتھ شل ہو جائیں تب بھی خُدا ہر گز تمہاری دُعا نہیں سنے گا اور نہیں رکے گا جب تک وہ اپنے کام کو پورا نہ کر لے۔“ ( اربعین ۳ صفحہ ۱۴) لہذا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو مباہلہ کیلئے پوری آمادگی ظاہر فرمائی۔مگر ساتھ ہی مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے متعلق لکھا :- ی تو انہوں نے اچھی تجویز نکالی۔اب اس پر قائم رہیں تو بات ہے۔(اعجازاحمدی صفحہ۱۳ ) (634)