تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 627 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 627

موجود ہیں اور روز بروز بڑھ رہے ہیں۔اب سوچو کہ کون غالب آیا ؟ کیا عبدالحکیم نے اپنی مزوّرانہ کاروائیوں سے اس سلسلہ کو مٹادیا؟ عبد الحکیم سینی سے عرصہ تک مسلول رہ کر زاویۂ عدم میں مخفی ہو گیا اور فرشتوں کی کھینچی ہوئی تلوار (سَيْفِ مَسْلُول) کا نشانہ بن گیا۔اور صادق اور کا ذب میں گھلا گھلا فرق ہو گیا۔حضرت کی پیش گوئی پوری ہوگئی۔ڈاکٹر عبد الحکیم کی پیشگوئی ڈاکٹر پٹیالوی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق کئی پیشگوئیاں دربارہ موت کیں۔مگر کب ؟ جب حضرت اقدس نے اپنے رسالہ الوصیت دسمبر ۱۹۰۵ء میں پہلے لکھ دیا تھا کہ : ” خدائے عز وجل نے متواتر وحی سے مجھے خبر دی ہے کہ میرا زمانہ وفات نزدیک ہے، اور اس بارے میں اُس کی وحی اس قدر تواتر سے ہوئی کہ میری ہستی کو بنیاد سے ہلا دیا۔اور اس زندگی کو میرے پر سرد کر دیا۔“ ( الوصیت صفحہ ۲) گویا جب حضرت نے یہ شائع کیا تو عبد الحکیم کے شیطان نے بھی اُس کو القاء کرنے شروع کر دیئے۔چنانچہ اوّلاً اُس نے لکھا کہ حضرت کی وفات کی میعاد تین سال ہے۔(عشرہ صفحہ ۱۶۳) پھر لکھا کہ : جولائی ۱۹۰۷ء سے ۱۴ ماہ تک مرزا مر جائے گا۔“ (عشرہ صفحہ ۱۶۴) مصنف عشرہ کہتے ہیں کہ : ” اس کے بعد ڈاکٹر صاحب نے ایک اور الہام شائع کیا که مرز ۴ را گست ۱۹۰۸ ء تک مر جائے گا۔“ (عشرہ صفحہ ۱۶۴) گو یا معترض پٹیالوی نے ڈاکٹر عبد الحکیم کے تین الہامات کا ذکر کیا ہے۔پہلے اُس نے حضرت کی وفات کیلئے تین سال اور ۱۴ مہینے اور پھر ۴/اگست تک کی پیشگوئی کی۔اور یہ سب تغییر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے شائع ہونے والے الہامات کو دیکھ کر کیا جاتارہا۔معترض پٹیالوی : وو نے لکھا ہے :- ' ڈاکٹر صاحب کی پیشگوئیوں کے مطابق مرزا صاحب نے ۲۶ مئی ۱۹۰۸ ء کو مقام لاہور انتقال کیا۔(عشرہ صفحہ ۱۶۴) ہمیں معترض کی پیش کردہ ترتیب پیشگوئیوں کے ساتھ اتفاق ہے لیکن یہ کہنا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وصال مرتد پٹیالوی کی پیشگوئیوں کے مطابق ہوا صریح (627)