تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 614 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 614

66 غرور علمی کو توڑنے والی تھی۔اِنَّ فِي ذَالِكَ لَعِبْرَةٌ لِأُولِي الْأَلْبَابِ معترض پٹیالوی اس واقعہ کو تسلیم کر کے کہتا ہے کہ ”مرزا صاحب باوجود الہامی تفہیم کے بیسیوں الہامی الفاظ کے معنی غلط کرواتے تھے۔حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔اس کی کوئی نظیر تو پیش کی ہوتی۔الہامی تفہیم ہو اور پھر لفظی معنی میں غلطی ہو؟ یہ محض جھوٹ ہے۔ہاں پیشگوئیوں کے متعلق اور ان کے مصداق میں انبیاء کرام سے اجتہادی غلطی ہوتی رہی ہے۔جیسا کہ اصولوں کے ضمن میں شروع فصل میں مذکور ہو چکا ہے۔مگر نبیوں کی اجتہادی غلطی سے بٹالوی صاحب کی تعلی کو کیا نسبت؟ یہاں تو بٹالوی اس مقدمہ میں ذلیل ہو کر اس لفظ کا غلط ترجمہ کر کے حضرت کو بدنام کرنا چاہتا تھا۔سو خو د ذلت کا نشانہ بن گیا۔معترض کا فقرہ : - "مولوی محمد حسین کا لفظ ڈسچارج کا ترجمہ بھی کوئی ذلت نہیں۔“ (عشرہ صفحہ ۱۵۸) قابل توجہ ہے۔گویا سب کچھ ہوتا جائے مگر ان صاحبوں کی عزت میں فرق نہیں آتا۔پانچویں ذلت گورنمنٹ کو دھوکہ دے کر مولوی محمد حسین بٹالوی نے چند مربعے زمین لے لی۔یہ خود ایک عالم انسان کے لئے ذلت ہے کہ زمین کی خاطر ایسے قبیح افعال کا ارتکاب کرے۔حدیث میں لکھا ہے کہ جس گھر میں بل داخل ہو جاتا ہے وہ ذلیل ہو جاتا ہے۔مولوی ثناء اللہ امرتسری اس حدیث کو اس زمینداری سے متعلق بتاتے ہیں، جو فاتح قوم اختیار کرلے۔( الہامات صفحہ ۸۷) لیکن کیا ایک ایسے عالم دین اور ایڈوکیٹ موحدین کے لئے زمین کی طرف جھک جانا باعث ذلت نہیں ہے جو اپنے آپ کو دین کے دفاع کا واحد ذمہ دار سمجھتا تھا ؟ ضرور ہے! سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔آپ کا خاندان زمیندار تھا ، تا کہ ابوداؤد کی روایت حارث کرات“ کے آپ مصداق ٹھہریں، لیکن حضور علیہ السلام نے اس زمینداری سے منہ پھیر کر مشغله علم و دینداری اختیار فرمایا۔محمد حسین بٹالوی ایک عالم تھا، غیر زمیندار تھا، اُس نے علمی مشاغل سے انحراف اختیار کر کے کھیتی باڑی پر قناعت کی۔یہ صورت اس کے لئے بہر حال ذلّت ہے۔آتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ ادْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ پر بھی غور فرما ئیں۔ناظرین کرام! ہم کہاں تک ان ذلتوں کو ذکر کریں جو اس عرصہ میں مولوی محمد حسین پر نازل ہوئیں۔یہ پانچ دولتیں تو وہ ہیں جن کا ذکر مؤلف عشرہ نے بھی کیا ہے۔اس لئے ہم بھی (614)