تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 612 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 612

بات کہہ کر موقعہ پر جھوٹ بول دے۔اور پھر اس کے خیال میں اس کے باوجود وہ منتفی بھی ہو لیکن اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کے ثبوت کیلئے ہر دو مکذبین کے کلام میں ہی دلیل رکھ دی ہے۔مولوی ثناء اللہ امرتسری نے مولوی محمد حسین بٹالوی کا ایک خط مورخه ۲۳ نومبر ۱۹۰۲ء (یعنی پیشگوئی سے پورے چار سال بعد جبکہ اس ذلت سے اُن کا ناک میں دم آ گیا تھا۔مؤلف ) شائع کیا ہے۔اس میں شیخ بٹالوی لکھتا ہے :۔میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ عجب کا صلہ لام کبھی نہیں آتا۔حدیث مشکوۃ عجبنا لَهُ يَسْئَلُهُ وَيُصَدِقہ مجھے پھول نہیں گئی ہے میں نے کہا تھا کہ قرآن میں عجب کا صلہ مِنْ آیا ہے۔قَالُو أَتَعْجَبِينَ من أمر الله ابوسعید الہامات صفحہ ۸۳) افسوس کہ اس کذاب بٹالوی کو جھوٹ لکھتے وقت یہ بھی سمجھ نہ آیا کہ اگر آپ نے عجب کا صلہ لام آنے کا انکار نہیں کیا تھا۔تو یہ کہنے کا کیا مطلب اور کونسا موقعہ تھا کہ ” قرآن میں عجب کا صلہ من آیا ہے؟ کیا کسی نے اس کا انکار کیا تھا؟ آپ کا حضرت کے الہام اتعجب لأمر می “ پر اعتراض کرتے ہوئے اتنا ہی تسلیم کرنا عقلمندوں کے لئے کافی ہے۔سچ ہے۔إِنِّي مُهِينٌ مَنْ أَرَادَاهَا نَتَكَ معترض پٹیالوی نے اس موقع پر مزید لکھا ہے کہ :- ”مرزا صاحب کی غلطیوں کا ایک طومار مولوی محمد حسین اور ثناء اللہ صاحبان اور دیگر علماء نے شائع کر دیا ہے، ایک عجبت لہ پر ہی اکتفاء نہیں کی۔( عشرہ صفحہ ۱۵۸) گویا ان دونوں مولوی صاحبان نے حضرت کی دیگر غلطیوں“ کے ذیل میں ”عجبت له “ والی تقریر کو بھی غلط قرار دیا ہے۔اب بھی آپ کا یہی کہتے جانا کہ محمد حسین کو اس واقعہ سے انکار ہے، یقیناً بہت بڑا مغالطہ ہے۔پس یہ واقعہ مولوی محمد حسین کی دوسری ذلت ہوئی۔تیری ذلت ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء کی پیشگوئی کے بعد مورخہ ۲۴ فروری ۱۸۹۹ء کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور نے محمد حسین سے ایک اقرار نامہ لیا کہ وہ آئندہ حضرت اقدس کو دجال کا فر اور کذاب نہیں کہے گا اور قادیان کو چھوٹے کاف سے لے یہ حدیث آپ کو اب کہاں بُھول سکتی ہے۔اس کو تو حضرت نے پیش کر کے آپ کی ذلت کا اعلان کیا تھا۔(612)