تفہیماتِ ربانیّہ — Page 611
الجواب - ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء کو پیشگوئی ہوتی ہے کہ ۱۵ جنوری ۱۹۰۰ ء تک مولوی محمد حسین بٹالوی کو ذلت پہنچے گی۔اور اس عرصہ میں ایک ذلت اس پر پڑ جاتی ہے۔اور کے جنوری ۱۸۹۹ء کے اشتہار میں اس کا ذکر بھی ہو جاتا ہے۔گویا میعاد کے ختم ہونے سے ایک برس پیشتر پیشگوئی کا ظہور ہو جاتا ہے۔مگر پٹیالوی منکر اسے میعاد کے خاتمہ پر (نعوذ باللہ ) حضرت کا حیلہ قرار دیتا ہے۔کیا ان دروغبا فیوں سے حق ٹھپ سکتا ہے؟ علماء نے فتوی دیا ہے ، فتویٰ کے ساتھ فتویٰ حاصل کرنے والے کے معلوم یا غیر معلوم ہونے کا کیا تعلق ہے؟ فتویٰ تو نفس استفتاء پر ہوتا ہے خواہ اسے زید پیش کرے خواہ بکر۔باقی یہ کہنا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی (نعوذ باللہ ) اس ذلت میں بٹالوی کے شریک ہیں ، دو وجہ سے غلط ہے۔(۱) اول حضرت تو شروع سے ہی ایسے مہدی کی آمد کے اعلانیہ منکر تھے مگر شیخ بٹالوی مسلمانوں کو کچھ کہتا تھا اور گورنمنٹ کو کچھ۔(۲) دوم وہ علماء بٹالوی کے ہم مذہب تھے حضرت اقدس کے تو پہلے ہی مخالف تھے۔اور بٹالوی نے حضرت کے خلاف ان سے ہی اوائل میں فتوی کفر لیا تھا۔اب وہی علماء محمد حسین کے خلاف فتویٰ کفر دے رہے ہیں۔کیا ذلت کے سرسینگ ہو ا کرتے ہیں؟ دوسری ذلّت اشتہار ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے محمد حسین کی ذلت کی پیشگوئی شائع کرتے وقت اپنا الہام " أَتَعْجَبُ لآمری“ پھر شائع فرمایا تھا۔اس الہام کے متعلق مولوی محمد حسین نے کہا کہ یہ الہام غلط ہے کیونکہ عربی زبان میں عجب کا صلہ لام نہیں آتا۔اس کے بالمقابل حضرت اقدس نے احادیث اور لغت عرب سے اس کا ثبوت دے دیا کہ عربی زبان میں تعجب کا صلہ لام آتا ہے۔جس پر مولوی محمد حسین بٹالوی کی بہت ذلت ہوئی۔جس طرح پہلی ذلت اخلاقی و مذہبی تھی ، یہ ذلت علمی تھی۔معترض پٹیالوی لکھتا ہے۔”عَجِبْتُ لَهُ والی تقریر سے مولوی محمد حسین صاحب کو انکار ہے۔(عشرہ صفحہ ۱۵۸) منکر امرتسری نے لکھا تھا کہ ”لام کے انکار والی بات کا کوئی ثبوت ہی نہیں۔“ ( الہامات صفحہ ۸۲) ناظرین کرام ! اگر چہ ایسے شخص کے لئے بجز آسمانی فیصلہ کے کوئی طریق نہیں جو (611)