تفہیماتِ ربانیّہ — Page 598
احمد بیگ کی موت پر اعتراض کا جواب سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب شهادة القرآن صفحہ ۸۱ پر اس پیشگوئی کے حسب ذیل چھ اجزاء نہ کر فرمائے ہیں :- (۱) مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری تین سال کی میعاد کے اندر فوت ہو۔(۲) اور پھر داماد اُس کا جو اُس کی دختر کلاں کا شوہر ہے اڑھائی سال کے اندر فوت ہو۔(۳) اور پھر یہ کہ مرزا احمد بیگ تا روز شادی دختر کلاں فوت نہ ہو۔(۴) اور پھر یہ کہ وہ دختر بھی تا نکاح اور تا ایام بیوہ ہونے اور نکاح ثانی کے فوت نہ ہو۔(۵) اور پھر یہ عاجز بھی ان تمام واقعات کے پورا ہونے تک فوت نہ ہو۔(1) اور پھر یہ کہ اس عاجز سے نکاح ہو جاوے۔اور ظاہر ہے کہ یہ تمام واقعات انسان کے اختیار میں نہیں۔( تحقیق صفحہ ۳۷) یر اجزاء پیشگوئی کے ابتداء سے آخر تک پروگرام پر مشتمل ہیں۔ان میں بتایا گیا ہے کہ جب پیشگوئی کی گئی۔اُس وقت مرزا احمد بیگ کی لڑکی محمدی بیگم کا نکاح کسی جگہ نہ ہوا تھا۔حضرت نے فرمایا کہ احمد بیگ نکاح کرنے تک زندہ رہے گا۔جیسا کہ جز ہے میں مذکور ہے۔چنانچہ وہ زندہ رہا۔پھر حضرت نے لکھا ہے کہ وہ بعد نکاح تین سال کے اندر مر جائے گا۔چنانچہ وہ بعد نکاح چھٹے مہینے مرگیا۔گویا جہاں تک اس پیشگوئی کا تعلق ہے احمد بیگ سے تھا، وہ اس کی سرکشی کے باعث علم گھلا پورا ہو گیا۔لیکن مشہور ہے کہ خُوئے بدرا بہانہ ہائے بسیار۔چنانچہ معترض پٹیالوی ان اجزاء کو نقل کر کے لکھتا ہے :۔(۱) ''جس شخص (احمد بیگ) نے اپنے داماد کی موت اور اپنی بیٹی کا بیوہ ہونا دیکھ کر مرنا تھا۔اور جس نے محمدی بیگم کے نکاح ثانی تک زندہ رہا تھا۔اس کی موت مرز اصاحب کے مرتبہ پروگرام کے صریحاً بر خلاف واقعہ ہوئی۔“ (تحقیق صفحہ ۱۵۴) (۲) احمد بیگ نے اپنے داماد کی موت دیکھ کر مرنا تھا۔اس لئے یہ مرگِ اتفاقیہ دلیل صداقت نہیں ہو سکتی۔“ (تحقیق صفحہ ۱۵۴) ناظرین کرام ! انصاف فرما ئیں کہ کیا حضرت کے پروگرام میں احمد بیگ کا (598)