تفہیماتِ ربانیّہ — Page 594
مجال نیست که تبدیل بدهد، مگر مرا که اگر خوا ہم آنجا ہم تصرف کنم۔ابوالعطاء ) اس دوسری قسم پر ہی موقوف ہے جو قضائے مبرم کی صورت رکھتی ہے۔نہ اس قضاء پر جو در حقیقت مبرم ہے۔“ (تحقیق صفحہ ۱۶۴) گویا معترض کے نزدیک تقدیر مبرم کی دو صورتیں ہیں۔اول در حقیقت مبرم۔دوم بلحاظ شکل مبرم۔اور مؤخر الذکر قسم میں از روئے قول سید عبد القادر صاحب تبدیلی ہو سکتی ہے۔جب حقیقت یہ ہے، تو پھر اس کا یہ لکھنا کہ : وو مرد میدان بن کر سامنے آؤ، اور حضرت موصوف کے اقوال سے تقدیر مبرم کا بدل جانا ثابت کر دو تو ہم بھری مجلس میں آپ کے ہم عقیدہ ہونے کو تیار ہیں۔“ ( تحقیق صفحه ۱۶۹) اگر خبط یا مجذوبانہ بڑ نہیں تو اور کیا ہے؟ ہمارا دعویٰ ہے کہ تقدیر مبرم کے ایک حصہ میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔جیسا کہ علامہ یا فتقی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ درج کئے ہیں۔فرمایا :- << إِنَّ الصَّدَقَةَ لَتَدْفَعُ الْبَلَاءَ الْمُبْرَمَ النَّازِلَ مِنَ السَّمَاءِ - “ (روض الرياحين برحاشيه قصص الانبياء صفحه (۲۶۴) ترجمہ - صدقہ یقینا اس قضاء مبرم کو ٹال دیتا ہے جو آسمان سے نازل ہو نیوالی ” علاوہ ازیں ہم نے اس کے لئے سید عبد القادر صاحب جیلانی کے الفاظ در قضائے مبرم پیچ کس را مجال اللہ بھی پیش کر دیئے ہیں۔معترض کہتا ہے کہ تقدیر مبرم کی پھر دو صورتیں ہیں۔ایک تقدیر مبرم جو بظاہر تقدیر مبرم ہے مگر علم الہی میں تقدیر معلق ہی ہے۔دوسری تقدیر مبرم جو در حقیقت تقدیر مبرم ہے۔اور پہلی تقدیر مبرم میں تبدیلی ممکن ہے۔الغرض معترض نے ہمارے دعوی کو تسلیم کر لیا ہے۔اور یہ تو ظاہر ہی ہے کہ انجام آتھم کے حاشیہ مذکورہ بالا میں سلطان محمد کی موت کو تقدیر مبرم بتلانا ، اور ساتھ ہی شرط کا ذکر فرمانا صاف بتا رہا ہے کہ یہ تقدیر مبرم محض ظاہری شکل میں ہے ورنہ در حقیقت تقدیر مبرم نہیں۔بہر حال خلاصہ کلام یہ ہے کہ معترض پیٹیالوی کے (594)