تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 54 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 54

کہ میری اتباع سے موسیٰ اور عیسیٰ ایسے اولوالعزم نبی پیدا ہو سکتے ہیں۔اب اگر کوئی بھی امتی مقام موسوی اور مقام عیسوی کا وارث نہ ہو تو یہودی اور عیسائی کہہ سکتے ہیں کہ (نعوذ باللہ ) آنحضرت کا یہ فرمانا کہ اگر موسیٰ زندہ ہوتے ، یا موسیٰ اور عیسیٰ زندہ ہوتے تو میرے تابعدار ہوتے ، دعوی بلا ثبوت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مختلف دعاوی موسیٰ، عیسی، کرشن وغیرہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ بلاشبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مندرجہ بالا ارشاد برحق ہے اور آپ کی قوت قدسیہ موسویت اور مسیحیت کیا بلکہ تمام گزشتہ انبیاء کے کمالات کا وارث کر دیتی ہے۔پس حضرت مرزا صاحب کے یہ دعاوی ہرگز ہرگز قابل اعتراض نہیں۔آپ نے جو دعویٰ کیا اور جب دعویٰ کیا خدا تعالیٰ کے حکم سے کیا۔خود تحریر فرماتے ہیں :- اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ مجھے ان باتوں سے نہ کوئی خوشی ہے نہ کچھ غرض کہ میں مسیح موعود کہلاؤں ، یا مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں بہتر ٹھہراؤں۔خدا نے میرے ضمیر کی اپنی اس پاک وحی میں آپ ہی خبر دی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے قُل أجَرِّدُ نَفْسِى مِنْ ضُرُوبِ الْخِطَاب یعنی ان کو کہدے کہ میرا تو یہ حال ہے کہ میں کسی خطاب کو اپنے لئے نہیں چاہتا۔یعنے میرا مقصد اور میری مراد ان خیالات سے برتر ہے۔اور کوئی خطاب دینا یہ خدا کا فعل ہے میرا اس میں دخل نہیں میرے لئے یہ کافی تھا کہ وہ میرے پر خوش ہو۔مجھے اس بات کی ہرگز تمنا نہ تھی۔میں پوشیدگی کے حجرہ میں تھا اور کوئی مجھے نہیں جانتا تھا۔اور نہ مجھے یہ خواہش تھی کہ کوئی مجھے شناخت کرے۔اس نے گوشہ تنہائی سے مجھے جبر ا نکالا۔میں نے چاہا کہ میں پوشیدہ رہوں اور پوشیدہ مروں۔مگر اس نے کہا کہ میں تجھے تمام دنیا میں عزت کے ساتھ شہرت دوں گا۔پس یہ اس خدا سے پوچھو کہ ایسا تو نے کیوں کیا ؟“ (حقیقة الوحی صفحه ۱۴۹،۱۴۸) آپ نے بے شک نبوت کا دعوی فرما یا مگر اس کے معنے یہ نہیں تھے کہ اب شریعت اسلامیہ منسوخ اور حضرت مرزا صاحب کسی نئے مذہب کے جاری کرنے والے ہیں بلکہ آپ ہی کے الفاظ میں یوں ہے کہ : 54