تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 580 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 580

مولوی ثناء اللہ امرتسری نے لکھا ہے کہ : (1) ” ہم مانتے ہیں کہ آتھم کو موت کا اندیشہ ہوا ہوگا اور یقیناً ہوا ہوگا۔اور اس خوف سے اس نے ہر ایک تدبیر سے کام لیا۔“ (رسالہ الہامات مرز ا صفحه ۱۱) (۲) آتھم نے رجوع کیا۔جیسا کہ عام طور پر مشہور ہے، اور بقول مرزا صاحب اُس کے رجوع بحق ہونے کے معنے یہ ہیں کہ اُس کے دل پر خوف غالب ہو ا جس کی وجہ سے وہ بھا گا پھرا (رسالہ الہامات مرز اصفحہ ۲۲) گو یا امرتسری معاند کو بھی مسلم ہے کہ آتھم کو یقیناً موت کا اندیشہ ہوا۔نیز یہ کہ اس کا رجوع ایک مشہور امیر ہے۔ہاں اسے اور معترض پٹیالوی کو اگر انکار ہے تو زبانی رجوع سے۔جیسا کہ لکھا ہے کہ آتھم علی الاعلان اس حق کی طرف رجوع کرتا جس کے لئے مرزا صاحب کا اُس سے مناظرہ ہوا تھا۔“ (رسالہ الہامات مرزا صفحہ ۳۶) وو پھر رجوع بھی محسوس نہیں ہوا اور آتھم موت سے بچ بھی رہا۔(// صفحہ ۱۲) اب سوال یہ ہے کہ کیا جماعت احمدیہ نے آتھم کے علی الاعلان رجوع کا دعویٰ کیا۔یا اُس کے رجوع کو ظاہری وزبانی قرار دیا تھا؟ ہر گز نہیں۔بلکہ الہام کی بناء پر اُس کے قلبی رجوع کا دعویٰ کیا گیا تھا اور اس کا ثبوت دیا گیا تھا۔آتھم کے عمل اور اللہ تعالیٰ کے فعل نے اس پر مہر تصدیق ثبت کر دی تھی۔اس کا علی الاعلان رجوع نہ کرنا ، بلکہ قلبی رجوع کا بھی بعد اختتام مدت انکار کر دینا ہی تو اس کی جلد موت کا موجب ہو ا تھا۔کما مر۔مطالبہ حلف کا معاملہ بائیبل کی تعلیم کے مطابق حضرت اقدس نے آتھم سے قسم کا مطالبہ کیا۔کیونکہ وہاں لکھا ہے کہ ہر معاملہ کا آخری فیصلہ قسم سے ہونا چاہئے۔نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جو قسم سے انکار کرتا ہے وہ نیست و نابود ہو جاتا ہے۔( یرمیاہ ۱۲ (۱۲) پھر خود خدا کی قسم، پولوس کی قسم، نبیوں کی قسمیں، اور حواریوں کی قسموں کو یاد دلا کر اسے کہا گیا تھا کہ قسم کھائے مگر در حقیقت آتھم مر چکا تھا اس لئے اُس نے قسم نہ کھائی، اور نہ میدانِ معت ابلہ میں آیا۔(580)