تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 579 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 579

ہو گئے۔پھر بھی آتھم اس جرم سے بری نہیں کہ اُس نے حق کو اعلانیہ طور پر زبان سے ظاہر نہیں کیا۔“ (رسالہ ضیاء الحق مطبوعہ مئی ۱۸۹۵ صفحه ۱۵-۱۲) چنانچہ ان پیشگوئیوں کے مطابق مسٹر آتھم ۲۷ جولائی ۱۸۹۶ء کو فیروز پور میں لقمہ اجل اتنی واضح پیشگوئی اور اس صفائی سے پوری ہو۔لیکن پھر بھی معاندین اعتراض ہی کرتے جاتے ہیں۔افسوس صد افسوس۔حضرت نے خوب فرمایا ہے بدگمانی نے تمہیں مجنون و اندھا کر دیا ورنہ تھے میری صداقت پر براہین بے شمار رجوع الى الحق ظاہر ہے کہ رجوع کا تعلق قلب کے ساتھ ہے۔اور دراصل رجوع دل کا ہی ہوتا ہے۔زبان کا رجوع حقیقی رجوع نہیں ہوتا۔ظاہر ہے کہ جب محض زبان کا رجوع عذاب کی تاخیر کا موجب ہوسکتا ہے جیسا کہ پانچویں معیار کے ضمن میں او پر مذکور ہو چکا ہے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ قلبی رجوع سے تاخیر عذاب نہ ہو۔اب سوال صرف یہ ہے کہ قلبی طور پر آتھم کے رجوع کا کیا ثبوت ہے؟ سو یادر ہے کہ اولاً اس تمام عرصہ میں اس کا اسلام کی مخالفت ، بانی اسلام کے خلاف دریدہ دہنی ، اور عیسائیت کی غالیانہ حمائت سے اجتناب اس کے قلبی رجوع کا زبر دست ثبوت ہے۔دوم اس کا امرتسر ،لدھیانہ، فیروز پور میں تین حملوں کا اقرارخود اس کے قلبی خوف کا شاہد ہے۔سوم اُس کا نالش سے انکار اُس کے قلبی رجوع کا زبر دست ثبوت ہے۔چہارم اُس کا حلف سے انحراف بھی اس دعوی کی کھلی تصدیق ہے۔پنجم پھر اس کا اُس اختفاء کے بعد حضرت کی پیشگوئی کے مطابق بہت جلد مر جانا بھی آسمانی شہادت ہے کہ اس نے یقینا رجوع کیا تھا جس کو چھپانے کے باعث جلد مر گیا۔ششم میدانِ مناظرہ امرتسر میں پیشگوئی سُنتے ہی اُس کا مرعوب ہو کر انکار کرنا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو (نعوذ باللہ ) دجال نہیں لکھا، حالانکہ وہ اندرونہ بائیل میں ایسا لکھ چکا تھا، پیشگوئی کی عظیم الشان ہیبت کا ثبوت ہے۔ان قرائن سستہ سے عیاں ہے کہ آتھم نے یقینا یقینا جوع الی الحق کیا تھا۔(579)