تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 572 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 572

الْهَلَاكِ أَمَنَّا بِكَ - یونس نے ان سے کہا کہ تمہاری میعاد چالیس راتوں تک ہے۔انہوں نے کہا۔اگر ہم ہلاکت کی علامات دیکھیں گے۔تو تجھ پر ایمان لے آئیں گے۔( تفسیر کشاف النصف الاول صفحہ ۵۹۹) (٢) إِنَّ يُونُسَ عَلَيْهِ السَّلامُ بُعِثَ إِلَى نَيْنَوى مِنَ الْمَوْصَلِ فَكَذَّبُوهُ وَآصَرُّوا عَلَيْهِ فَوَعَدَهُمْ بِالْعَذَابِ إِلَى ثَلَاثِينَ وَقِيلَ ار بَعِینَ۔یونس کو موصل سے نینوی بھیجا گیا۔اہل نینوی نے اُن کی تکذیب کی اور اس پر اصرار کیا۔تب یونس نے ان سے تیس یا چالیس راتوں (على اختلاف الرواية) میں عذاب آنے کا وعدہ کیا۔" ( قنوتی علی البیضاوی جلد ۴ صفحه ۱۸۶) (۳) وَكَانَ يُونُسُ قَالَ لَهُمْ إِنَّ أَجَلَكُمْ ارُ بَعُونَ لَيْلَةً - حضرت یونس نے اُن سے کہا کہ تمہاری میعاد چالیس رات تک ہے۔“ ( تفسیر کبیر جلد ۵ صفحہ ۴۲) (۴) عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَغَيْرِه اِنَّ اللهَ بَعَثَ يُونُسَ إِلَى أَهْلِ بَيْنَوى وَهِيَ أَرْضُ الْمَوْصَلِ فَكَذَّبُوهُ فَوَعَدَهُمْ بِنُزُولِ الْعَذَابِ فِي وَقْتٍ مُعَيَّنٍ وَخَرَجَ عَنْهُمْ مُغَاضِبًا - حضرت ابن مسعود وغیرہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالے نے علاقہ موصل کے شہر نینوی کی طرف حضرت یونس کو بھیجا۔اہلِ قریہ نے اُن کو جھٹلایا۔تب یونس نے انہیں معین وقت میں نزول عذاب کا وعید کیا۔اور ناراض ہو کر چلے گئے۔( فتح الباری جلد ۲ صفحہ ۳۲۵) ان حوالجات سے ظاہر ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کی پیشگوئی معین وقت کے لئے تھی اور پھر عذاب نہ آیا۔پس معترض کا یہ خیال بھی باطل ہے کہ معین وقت والی پیشگوئی میں التواء نہیں ہوتا۔پس صحیح معیار یہی ہے کہ تو بہ اور رجوع سے معین عذاب بھی ٹل جاتا ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام کا ایک واقعہ یوں منقول ہے :- "إِنَّ قَصَّاراً مَرَّ عَلى عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ مَعَ جَمَاعَةٍ مِنَ الْجَوَارِيِّينَ فَقَالَ لَهُمْ عِيسَى احْضُرُ وا جَنَازَةَ هَذَا الرَّجُلِ وَقْتَ الظُّهْرِ فَلَمْ يَمُتُ فَنَزَلَ جِبْرِيلُ فَقَالَ أَلَمْ تُخْبِرْنِي بِمَوْتِ هَذَا الْقَصَّارِ فَقَالَ نَعَمُ وَلكِنْ تَصَدَّقَ بَعُدَ ذَالِكَ بِثَلَاثَةِ أَرْغِفَةٍ فَنَجَا مِنَ الْمَوْتِ “ (572)