تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 573 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 573

کہ حضرت عیسی اور حواریوں کی جماعت کے پاس سے ایک دھوبی گذرا۔حضرت مسیح نے کہا کہ آج ظہر کے وقت اس کے جنازہ پر حاضر ہو جاؤ۔لیکن وہ دھوبی نہ مرا۔جب جبریل آئے تو حضرت مسیح نے پوچھا کہ کیا تو نے مجھے اس دھوبی کی موت کی خبر نہ دی تھی۔اُس نے کہا کہ خبر تو دی تھی لیکن اُس نے بعد ازاں تین روٹیاں صدقہ کر دیں۔اور موت سے نجات پا گیا۔" (روح البیان جلد ۱ صفحه ۲۵۷ مطبوعہ مصر ) ساتواں معیار۔بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ جس شخص کے حق میں پیشگوئی ہوتی ہے، اُس کے حق میں پوری نہیں ہوتی، بلکہ اُس کے بیٹے یا خلیفہ و جانشین کے ہاتھوں پوری ہوتی ہے۔دراصل یہ بھی اس پیشگوئی کا پورا ہونا ہی ہوتا ہے۔(الف) رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :- بَيْنَمَا أَنَا نَائِمُ الْبَارِحَةَ إِذْ أُتِيْتُ بِمَفَاتِيْعِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ حَتَّى وُضِعَتْ فِي يَدَيَّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَة فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتُمْ تَنْتَثِلُونَهَا۔“ ( بخاری کتاب الرؤیا جلد ۴) کہ میں سورہا تھا کہ مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں دی گئیں۔یہاں تک کہ وہ میرے ہاتھوں میں رکھ دی گئیں۔ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول پاک تو تشریف لے گئے۔اب تم (اے صحابہ ) ان خزانوں کو جمع کرتے ہو۔“ (ب) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں میں سونے کے دوکنگن دیکھے ان کو آپ نے خود پھونک مار کر اُڑا دیا۔اور حضور نے اس سے دو کذاب مدعیانِ نبوت مراد لئے۔(بخاری کتاب الرؤیا ) ان میں سے ایک مسیلمہ کذاب آپ کے پاس آیا۔تو آپ نے اسے فرمایا :- " لَئِنْ أَدْبَرْتَ لَيَعْقِرَنَّكَ اللهُ وَإِنِّي لَآرَاكَ الَّذِي أُرِيتُ فِيكَ مَا أُرِيتُ - الحديث ( مسلم باب رؤیا النبی صلے اللہ علیہ وسلم) کہ اگر تو نے دینِ حق سے انحراف کیا تو اللہ تعالیٰ تجھ کو تباہ کر دے گا۔اور میرا خیال ہے کہ تو وہی ہے جس کے متعلق میں نے رویا دیکھی ہے۔“ (573)