تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 568 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 568

کوشک و اشتباہ واقع ہوا اور الہام دوم کے معنے سمجھنے میں تو آپ کا خیال واقع کے بھی مخالف نکلا (رسالہ اشاعة الستة جلدے نمبر ۱۰ صفحہ ۲۹۱) (3) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی تحریر فرمایا ہے کہ :- (۱) ”صاف ظاہر ہے کہ جب پیشگوئی ظہور میں آجائے اور اپنے ظہور سے اپنے معنے آپ کھول دے اور ان معنوں کی پیشگوئی کے الفاظ کے آگے رکھ کر بدیہی طور پر معلوم ہو کہ وہی بچے ہیں تو پھر ان میں نکتہ چینی کرنا ایمانداری نہیں ہے۔“ (ضمیمہ براہین پنجم صفحه ۸۷) (۲) اگر کسی خاص پہلو پر پیشگوئی کا ظہور نہ ہو۔اور کسی دوسرے پہلو پر ظاہر ہو جائے۔اور اصل امر جو اس پیشگوئی کا خارق عادت ہونا ہے۔وہ دوسرے پہلو میں بھی پایا جائے۔اور واقعہ کے ظہور کے بعد ہر ایک عقلمند کو سمجھ آجائے۔کہ یہی صحیح معنے پیشگوئی کے ہیں جو واقعہ نے اپنے ظہور سے آپ کھول دیئے ہیں۔تو اس پیشگوئی کی عظمت اور وقعت میں کچھ بھی فرق نہیں آتا۔اور اس پر ناحق نکتہ چینی کرنا شرارت اور بے ایمانی اور ہٹ دھرمی ہوتی ہے۔“ (ضمیمہ براہین پنجم صفحہ ۹۰) پس چوتھا معیار :- یہ ہے کہ پیشگوئی کے ظہور سے پیشتر بعض دفعہ اس کی پوری حقیقت عام مومنین، صحابہ، اور نبی پر بھی منکشف نہیں ہوتی۔بلکہ اس کی صحیح تفسیر وہی ہوتی ہے جو واقعات سے ثابت ہو۔پانچواں معیار :- عذاب کی پیش گوئی طغیان وسرکشی کی بناء پر ہوتی ہے۔لہذا اگر وہ قوم یا فردجس کے حق میں پیش گوئی کی گئی ہے۔اس زیادتی اور ظلم سے باز آجاوے۔جو بناہ پیش گوئی ہے۔تو لازماً اس پیشگوئی کا ظہور معرض تعویق میں پڑ جائے گا۔اور جتنا جتنا رجوع ثابت ہوگا۔اتنا اتنا ہی وہ اس عذاب سے محفوظ رہیں گے۔یادر ہے کہ اس ضمن میں ایمان دو قسم کا ہو سکتا ہے۔(۱) حقیقی اور مستقل ایمان (۲) عارضی اور ناقص ایمان۔ہر دوصورتوں میں موعود عذاب ٹل جاتا ہے۔ہاں مؤخر الذکر صورت میں جب دوبارہ شرارت ثابت ہو جائے تو وہ پھر ماخوذ ہو جاتے ہیں۔568