تفہیماتِ ربانیّہ — Page 567
الْيَمَامَةِ میرا خیال یمامہ کی طرف گیا۔مگر بعد میں مدینہ ثابت ہوا۔( تحقیق لاثانی صفحه ۱۹۲) (ب) معترض پیٹیالوی کا اقرار ہے :- طول الیدین ( لمبے ہاتھوں والی) عرب کے مجازی محاورہ میں سخی عورت کو کہتے ہیں۔ازواج مطہرات نے لفظی معنے کے ماتحت اس کی حقیقت سمجھی اور ہاتھ ناپے۔مگر آنحضرت کے سامنے نہیں بلکہ بطور خود۔لیکن واقعہ یہ ہوا کہ مراد اس سے مجازی معنے تھے۔“ (تحقیق کاشانی صفحہ ۱۹۲) (ج) اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے : b وَقُلِ الْحَمْدُ لِلهِ سَيُرِيكُمُ ايَتِهِ فَتَعْرِفُونَهَا (انمل آیت ۹۳) که سب تعریف اللہ کے لئے ہے وہ تم کو اپنے نشان دکھائے گا۔تب تم ان کو پہچان سکو گے۔اس آیت سے بھی ظاہر ہے کہ قبل ظہور پیشگوئی کی پوری معرفت نہیں ہوا کرتی۔چنانچہ دیکھ لیجئے۔ایلیا کی آمد کی پیش گوئی تھی۔یہود اس کی حقیقت نہ سمجھ سکے۔تاوقتیکہ حضرت مسیح نے اس کی تعبیر بعثت کسی سے نہ فرمائی۔مگر پھر بھی یہود اس کے قائل نہ ہوئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تورات و انجیل میں پیشگوئیاں ہیں۔مگر یہود و نصاری ان کی حقیقت کو سمجھنے سے ہنوز قاصر ہیں۔(1) مولوی محمد حسین بٹالوی نے لکھا ہے کہ :- لمتهين اس مقام میں ایسی تفصیلوں کے ذکر پر اکتفا کیا جاتا ہے۔جن میں سیدا خاتم المرسلین کا بعض الہامات ( غیر متعلق به تکلیف و تبلیغ) کی مراد سمجھنے میں اشتباہ وشک پایا جاتا ہے۔ان دونوں الہاموں (اريتك في المنام - ذهب وهلى - ناقل ) کے ( جو متعلق به تبلیغ و تکلیف نہیں ) معنے سمجھنے میں سید الہمین و خاتم المرسلین لے یہ بخاری کی مشہور حدیث اسر عكن لحوقاً بي اطو لكن يداً کا ذکر ہے۔جس میں ازواج مطہرات نے اپنے ہاتھ ناپنے شروع کر دیئے تھے۔معترض کا یہ کہنا کہ یہ واقعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نہیں ہوا۔محض بے ثبوت ہے۔الفاظ حدیث حضور کے سامنے ناچنے کی تائید کرتے ہیں۔(مؤلف) (567)