تفہیماتِ ربانیّہ — Page 559
اور اپنی بیوی یا بیویوں سے عدل کا معاملہ کرتا ہے۔“ اس شہادت میں وصیت کنندہ کی خاص دینی خدمات کا بھی اندراج ہوتا ہے۔اس فارم کی تصدیق کرنے والا لکھتا ہے کہ :- میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میرے علم میں جہاں تک میں نے غور کیا ہے مندرجہ بالا با تیں مسمی میں پائی جاتی ہیں۔واللہ اعلم۔اس فارم کے مکمل ہو کر آنے کے بعد اس کی وصیت منظور کر کے اس سے چندہ لینا شروع کیا جاتا ہے اور بعد ازاں بھی اخیر وقت تک اُس کے تقویٰ کی نگرانی کی جاتی ہے۔اگر حالت دگرگوں ہو تو ایسے موصی کی وصیت منسوخ کر دی جاتی ہے۔پس اس انتظام پر اعتراض کرنا یا تو بہت بڑی غلط فہمی ہے یا انتہائی مغالطہ دہی۔اب ہم بفضل اللہ پٹیالوی صاحب کے ان اعتراضات کا مکمل جواب لکھ چکے جو اس نے اس فصل میں کئے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا دیگر مقدسوں کی مثالیں پیش کرنے کا مقصد قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی آخری شریعت ہے اس میں انسانوں کی سب ضروریات کا حل پیش کر دیا گیا ہے۔وہ ایک ایسی کسوٹی ہے جس پر انسانوں کا ہر قول اور ہر علم پر کھا جاسکتا ہے۔اسی طرح حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم وہ کامل نمونہ ہیں جو انسانی اعمال اور افعال کیلئے محک اور معیار ہیں جو عمل حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے عمل کے مطابق ہو اور جو قول اور عقیدہ قرآن مجید کی نصوص کے موافق ہو۔اس کے حق اور درست ہونے میں کوئی شک نہیں۔مسلمانوں نے ہمیشہ کتاب اللہ اور رسول اللہ کو اپنے قول و فعل کے لئے معیار تسلیم کیا ہے۔معترض پٹیالوی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اخلاق پر آپ کے اقوال پر، اور آپ کے افعال پر جس قدر بھی اعتراض کئے ہیں ہم نے ان کے جوابات میں مختلف مقامات پر رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم (559)